Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس سے وی ہنمنت راؤ کا راجیہ سبھا کیلئے مقابلہ کا عزم

کانگریس سے وی ہنمنت راؤ کا راجیہ سبھا کیلئے مقابلہ کا عزم

تلنگانہ پی سی سی کی ہائی کمان سے سفارش، سونیا گاندھی سے ملاقات، آج کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس

حیدرآباد ۔ 27 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی راجیہ سبھا کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے سنجیدگی سے غور کررہی ہے اور مسٹر وی ہنمنت راؤ کو امیدوار بنانے کی کانگریس ہائی کمان سے سفارش کی ہے۔ 28 مئی کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پارٹی امیدوار بنانے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس پارٹی راجیہ سبھا کے انتخابات کیلئے ایک تیر سے دو نشان لگانا چاہتی ہے۔ کانگریس پارٹی کیلئے کامیابی کے کوئی امکانات نہیں ہے۔ دو امیدواروں کی کامیابی کیلئے ٹی آر ایس کے پاس مکمل اکثریت ہے۔ تاہم کانگریس پارٹی ٹی آر ایس امیدواروں کی بلا مقابلہ کامیابی کے امکانات کو روکنے اور کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو کانگریس کے بجائے ٹی آر ایس کو ووٹ دینے کی صورت میں انہیں نااہل قرار دینے کیلئے ان کے ووٹ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجیہ سبھا کی میعاد مکمل کرنے والے سکریٹری اے آئی سی سی مسٹر وی ہنمنت راؤ نے دہلی روانہ ہونے سے قبل صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی اور قائد اپوزیشن مسٹر کے جاناریڈی سے ملاقات کی اور راجیہ سبھا کیلئے مقابلہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہیں تلگودیشم کے علاوہ کمیونسٹ جماعتوں کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے پارٹی ہائی کمان کو ہنمنت راؤ کو راجیہ سبھا امیدوار بنانے کی سفارش کی ہے اور ہنمنت راؤ سے کہا ہیکہ قطعی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کا ہوگا۔ اپنا نام دہلی پہونچتے ہی مسٹر وی ہنمنت راؤ دہلی پہنچ گئے اور پارٹی صدر مسز سونیا گاندھی سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کرتے ہوئے راجیہ سبھا کیلئے تلنگانہ سے انہیں امیدوار بنانے کی خواہش کی۔ سونیا گاندھی نے ان کی دی گئی یادداشت پر سنجیدگی سے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کے بیشتر سینئر قائدین راجیہ سبھا انتخابات میں حصہ لینے کے مخالف ہے۔ ان کا استدلال ہیکہ راجیہ سبھا کی نشست پر کامیابی کیلئے 40 ارکان اسمبلی کی تائید ضروری ہے جبکہ کانگریس کے پاس اتنے ارکان اسمبلی کی تعداد نہیں ہے۔ تلگودیشم کے 13، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 3، بی ایس پی کے 2 اور کانگریس کے 5 ارکان اسمبلی پہلے ہی ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ مجلس کانگریس کی تائید نہیں کرے گی اور کانگریس بی جے پی سے تائید نہیں طلب کرے گی ایسے میں راجیہ سبھا کی نشست کیلئے مقابلہ کرنا کانگریس کی ناکامیوں میں مزید ایک اضافہ کرنے کے سواء اور کچھ بھی نہیں ہے۔ راجیہ سبھا کے انتخابات میں کانگریس کے امیدوار کو کھڑا کریں یا نہ کریں اس کا جائزہ لینے کیلئے 28 مئی کو 11 بجے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT