Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس قائدین میں کسی مسئلہ پر بھی اتفاق رائے نہیں

کانگریس قائدین میں کسی مسئلہ پر بھی اتفاق رائے نہیں

حکومت پر محمد علی شبیر کے الزامات بے بنیاد ، فاروق حسین کا بیان
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے کہا کہ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر ٹی آر ایس کے ورنگل میں منعقدہ جلسہ عام کی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اپنے آپ کو سرخیوں میں برقرار رکھنے کے لیے حکومت اور چیف منسٹر کے ارکان خاندان پر جھوٹے و من گھڑت الزامات عائد کررہے ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے سروے کراتے ہوئے فوری انتخابات کا انعقاد کرانے کی صورت میں کانگریس کو 70 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کا دعوی کیا تھا ۔ اس کے دوسرے دن کانگریس کے سینئیر رکن اسمبلی سابق وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کانگریس کے سروے کو بوگس قرار دیا تھا ۔ قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی نے سروے پر اپنی لا علمی کا اظہار کیا تھا ۔ کانگریس کے قائدین میں کسی بھی مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہے اور نہ ہی قائدین کانگریس کے پاس کیڈر نام کی کوئی چیز ہے ۔ ریاست کے عوام بالخصوص سماج کے تمام طبقات حکومت کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں ۔ ورنگل کا جلسہ عام ٹی آر ایس پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے فلاحی اسکیمات ملک کے دوسرے ریاستوں کے لیے قابل تقلید بن رہی ہے ۔ ترقی سب کو نظر آرہی ہے ۔ سوائے کانگریس قائدین کے ٹی آر ایس حکومت نے مختصر عرصے میں ترقی کے کئی کارنامے انجام دئیے ہیں جس سے اپوزیشن بالخصوص کانگریس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ حکومت کی ترقی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے عدالتوں کا سہارا لے رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ باوجود اس کے ہر محاذ پر ناکام ہے جس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ کانگریس پارٹی ریاست میں اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔ ریاست میں کانگریس کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ محمد علی شبیر اے سی کمروں میں بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بستر مرگ پر موجود کانگریس کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مگر وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ گذشتہ تین سال میں سرپنچ سے لوک سبھا تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ اس سے ٹی آر ایس کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ کئی ایسے بھی انتخابی نتائج آئے ہیں جہاں کانگریس امیدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی ہے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کو دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوگی اور کانگریس کو اصل اپوزیشن کا موقف بھی حاصل نہیں ہوگا ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT