Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس قائدین پر اراضی اسکام کے الزامات بے بنیاد

کانگریس قائدین پر اراضی اسکام کے الزامات بے بنیاد

ثبوت پر تحقیقات میں شامل کرنے پر زور، ہریش راؤ کے بیان پر محمد علی شبیر کا ردعمل

حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ریاستی وزیرآبپاشی ہریش راؤ کو چیلنج کیا کہ اراضی اسکام کا ثبوت ہے تو تحقیقات میں کانگریس قائدین کو بھی شامل کریں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ملک کے سب سے بڑے اراضی اسکام میں پھنس چکی ہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین کو بچانے او رحکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ریاستی وزیرآبپاشی ہریش راؤ کانگریس قائدین پر بھی اراضی اسکام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اراضی اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کی ابتداء سے مانگ کررہی ہے۔ اگر کانگریس قائدین اراضی اسکام میں ملوث ہیں تو حکومت ان کے خلاف بھی سی بی آئی تحقیقات کرانے کے معاملے میں آزاد ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے تحقیقات سے قبل اراضی اسکام کو کلین چٹ دی ہے جو بڑی شرم کی بات ہے۔ محمد علی شبیر نے اراضی اسکام کے معاملے میں ایس کے سنہا کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ حکومت اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کرنے کی عادی ہوگئی ہے۔ کانگریس پارٹی اراضی اسکام میں ملوث ہونے والے ٹی آر ایس قائدین کے خلاف ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ حکومت کی اراضی اسکام پر معنی خیز خاموشی اس بات کا ثبوت ہیکہ چیف منسٹر اسکام میں ملوث ہونے والے ٹی آر ایس قائدین کے اصلی چہرے کو منظرعام پر لانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس قیادت پر کی گئی تنقید کی سخت مذمت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے فرزند کو زبان پر لگام دینے کا مشورہ دیں۔ کانگریس کے صبر کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ حکومت کی تحقیقات پہاڑ کھود کر چوہا نکالنے کے مترادف ہے۔ ایک انچ اراضی پر قبضہ نہ ہونے دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر سی بی آئی تحقیقات سے اس کو واضح کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ٹی آر ایس کے دورحکومت میں ہمیشہ خاطیوں،قصورواروں کا تحفظ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی ریاست میں حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT