Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس قائدین کا تلنگانہ میں اقتدار کا خواب

کانگریس قائدین کا تلنگانہ میں اقتدار کا خواب

تعبیر کبھی نہیں ہوگی ، ٹی آر ایس ایم ایل سی بھانو پرساد کا بیان
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل بھانو پرساد نے کہا کہ کانگریس قائدین ریاست میں دوبارہ اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں جو کبھی بھی پورا نہیں ہوگا۔ کوئی رکن اسمبلی تو دور کی بات ہے، کسی گاؤں کا ایک ممبر وارڈ بھی ٹی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں ہرگز شامل نہیں ہوگا۔ بھانو پرساد نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس کے قائد بھٹی وکرمارکا کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ بعض وزراء اور ارکان اسمبلی کانگریس میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین اور بھٹی وکرمارکا دن میں خواب دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس دور حکومت میں وزراء کی جانب سے اسکامس اور بے قاعدگیوں کے واقعات سے عوام اچھی طرح واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے نظم و نسق میں شفافیت پیدا ہوئی ہے اور بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ وزراء اور ارکان اسمبلی انتہائی خلوص اور عوامی جذبہ کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بھانو پرساد نے کہا کہ ٹی آر ایس دراصل ایک تحریک سے ابھرنے والی پارٹی ہے جس کا مقصد ترقی اور فلاح و بہبود کے سوا کچھ نہیں۔ کانگریس کے بعض قائدین کو جان بوجھ کر خفیہ آپریشن کے تحت ٹی آر ایس میں روانہ کر نے سے متعلق بھٹی وکرمارکا کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے بھانو پرساد نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران بھٹی وکرمارکا نے رینوکا چودھری اور دیگر مخالف تلنگانہ سیما آندھرا قائدین کیلئے خدمات انجام دی تھی اور وہ ٹی آر ایس قائدین کو بھی اسی طرح تصور کر رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی اور کانگریس کی شکست یقینی ہے اور آئندہ ایک بھی نشست کی کامیابی نہ ہونے کے اندیشہ کے تحت کانگریس کے موجودہ ار کان اسمبلی میں الجھن پائی جاتی ہے۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی کھلے عام اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بارے میں شبہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 20 برسوں تک تلنگانہ میں کے سی آر کی قیادت میں ٹی آر ایس کا اقتدار یقینی ہے اور کوئی بھی طاقت ٹی آر ایس کو شکست نہیں دے پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جو اقدامات کئے گئے ، اس کی مثال ملک کی کوئی ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں میں زرعی شعبہ کو فراموش کردیا گیا تھا لیکن کے سی آر نے زرعی شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ آئندہ مالیاتی سال سے کسانوں کو دو فصلوں کیلئے فی ایکر 8000 روپئے ادا کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT