Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس قائدین کو ٹی آر ایس کا کنٹراکٹ

کانگریس قائدین کو ٹی آر ایس کا کنٹراکٹ

لالچ میں پارٹی سے انحراف ، وی ہنمنت راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے عہدوں اور کنٹراکٹ کی لالچ میں کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا کانگریس قائدین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالت فحاشوں سے بھی بدتر ہے ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ مسٹر جی ویویک اور مسٹر جی ونود کی سیاسی زندگی کانگریس کی مرہون منت ہے ۔ ان کے والد آنجہانی جی وینکٹ سوامی آخری سانس تک کانگریسی رہے ان کے فرزندان سیاسی آنکھ مچولی کھیلتے رہے ۔ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اراضیات معاملت اور وشاکھا انڈسٹری کے امور میں جو بھی تنازعات ہیں اس کو دور کرنے اپنے جائیداد و اثاثہ جات کی حفاظت کرنے کے لیے دونوں بھائیوں نے کانگریس سے مستعفی ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسٹر ہنمنت راؤ نے یاد دلایا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ بشمول جی ویویک نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کی صورت میں تلنگانہ سے کانگریس کے 17 ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن وعدہ کرنے والے ہی ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں جب کہ انہیں یاد ہونا چاہئے کہ وہ آج جو سونے کے چمچے سے کھانا کھا رہے ہیں کانگریس کی بدولت ہے ۔ سکریٹری اے آئی سی سی نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر جی سکھیندر ریڈی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی رکنیت نہ رکھنے اور گاندھی بھون کی سڑھیاں نہ چڑھنے والے جی سکھیندر ریڈی کو سابق وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی کی ایماء پر ایم پی ٹکٹ فراہم کیا گیا اور ضلع کانگریس قائدین اور کارکنوں نے انہیں 2 مرتبہ کامیاب بنایا ہے ۔ اپنے رشتہ داروں کو آبپاشی پراجکٹس میں کنٹراکٹ حاصل کرنے کے لیے وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔ انہوں نے مسٹر جی سکھیندر ریڈی سے استفسار کیا کہ کہاں گئی سیاسی وفاداریاں انہوں نے نبارڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست کو قرض نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا اور ہائی کورٹ سے رجوع ہو کر پارلیمنٹری سکریٹریز کے جی او کو منسوخ کرایا تھا اچانک وفاداریاں تبدیل کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ 2014 کے عام انتخابات میں تلنگانہ عوام کی جانب سے ٹی آر ایس کو مکمل اکثریت فراہم کرنے کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر میں غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ ارکان قانون ساز کونسل کو اپنی جماعت میں شامل کررہے ہیں مگر مستقبل میں یہی لوگ ٹی آر ایس قیادت سے بغاوت کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT