Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس میں توہین، ایم ایس پربھاکر کا الزام

کانگریس میں توہین، ایم ایس پربھاکر کا الزام

دو مرتبہ ایم ایل سی بنانے پر بھی بے وفائی، دامودھر راج نرسمہا کا جواب
حیدرآباد /3 دسمبر (سیاست نیوز)  آج ریاستی کانگریس کے کئی ڈرامائی حالات منظر عام پر آئے۔ کانگریس کے وفادار سمجھے جانے والے رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکر نے اچانک اپنی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد ازاں انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی میں ان کی توہین ہوئی ہے، اس کے باوجود انھوں نے صبر سے کام لیتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی انتخابی تیاریوں کی ہائی کمان اور ریاست کے سینئر قائدین سے اپیل کی اور پارٹی کیڈر کے جذبات سے انھیں واقف کروایا۔ لیکن جب اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تو وہ مایوس ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ ایک ویژن رکھنے والے چیف منسٹر ہیں، ان کی قیادت میں شہر حیدرآباد انقلابی ترقی کرے گا۔ دریں اثناء سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے ایم ایس پربھاکر کی جانب سے توہین کے الزام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ان کو دو مرتبہ قانون ساز کونسل کا رکن بنایا ہے، کیا یہ ان کی توہین ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ اگر شخصی مفادات کے لئے ایم ایس پربھاکر ٹی آر ایس میں شامل ہو رہے ہیں تو پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، مگر کانگریس پر بے بنیاد الزام عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ اسی دوران سابق ریاستی وزیر و کانگریس رکن اسمبلی ڈاکٹر جے گیتا ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت کی افواہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر اور ٹی آر ایس کے وزراء غلط فہمی پیدا کرکے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ کانگریس میں ہیں اور مستقبل میں بھی کانگریس میں رہیں گی۔ انھوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس طرح کی خبر نشر یا شائع کرنے سے قبل ان سے دریافت کرلیں، وہ میڈیا کو ہمیشہ دستیاب رہیں گی۔

TOPPOPULARRECENT