Wednesday , August 16 2017
Home / سیاسیات / کانگریس نے عشرت کیس کے ذریعہ مودی کو نشانہ بنایا

کانگریس نے عشرت کیس کے ذریعہ مودی کو نشانہ بنایا

وزارت داخلہ کے تین اعلی عہدیداروں کے انکشافات ثبوت : آر ایس ایس ترجمان اخبار کا ادعا
نئی دہلی 7 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت داخلہ کے تین عہدیداروں کے انکشافات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کانگریس نے عشرت جہاں کیس کے ذریعہ نریندر مودی کو نشانہ بنایا تھا ۔ آر ایس ایس کے ترجمان اخبارات میں یہ یہ ادعا کیا گیا اور یہ سوال کیا گیا کہ آیا اس سیاسی سازش میں پی چدمبرم اکیلے شامل تھے یا وہ ایک کٹھ پتلی کا رول ادا کر رہے تھے ۔ آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر 2004 میں ہوا تھا اور اس کا بھوت ہندوستان کی سیاست کا ابھی تک پیچھا کر رہا ہے ۔ اب یہ پیچھا سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کانگریس میں ان کے آقاوں کا ہو رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یو پی اے دور حکومت میں وزارت داخلہ میں کام کرچکے تین اعلی عہدیداروں نے عشرت کو دہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ سے علیحدہ کرنے کیلئے پی چدمبرم کو ماخوذ کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان انکشافات سے یہ خیال تقویت پایا ہے کہ کانگریس اور پی چدمبرم نے ایک سیاسی سازش رچی تھی تاکہ اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کو عشرت کیس کے ذریعہ نشانہ بنایا جاسکے ۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ آیا یہ صرف چدمبرم تنہا تھے یا ان کے اوپر بھی کوئی اور تھا ۔ اب حقائق سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں ۔ آیا چدمبرم کوئی کٹھ پتلی تو نہیں تھے ۔ اس ساری سازش کے پیچھے اصل کھلاڑی کون تھے یہ تو وقت ہی بتائیگا ۔اس مضمون میں ہٹلر کے پروپگنڈہ وزیر کا یہ جملہ دہرایا گیا کہ ایک جھوٹ کو ہزار بار دہرایا جائے تو وہ سچ ثابت ہوجاتا ہے اور یہی کچھ عشرت کیس میں کانگریس نے نریندر مودی کو نشانہ بنانے کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT