Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کانگریس و لیفٹ احتجاج میں شامل ، اسٹوڈنٹس ہڑتال کیلئے تیار

کانگریس و لیفٹ احتجاج میں شامل ، اسٹوڈنٹس ہڑتال کیلئے تیار

جے این یو تنازع بی جے پی و حریفوں کے درمیان نظریاتی لڑائی بن گیا۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے حکومت دہلی کے احکام

نئی دہلی ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا بڑھتا تنازع آج بی جے پی اور اس کے بائیں بازو حریفوں کے درمیان نظریاتی لڑائی میں تبدیل ہوگیا جبکہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے ان کی حمایت کرتے ہوئے مودی حکومت کا ہٹلر کے دور سے تقابل کیا ہے۔ سی پی آئی سے ملحق طلبہ تنظیم کے لیڈر و صدر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کنہیا کمار کی گرفتاری نے دونوں فریقوں کو تصادم کی راہ پر ڈال دیا، کیونکہ حکومت نے اعلان کیا کہ اس یونیورسٹی کو ’’مخالف قوم سرگرمیوں کا مرکز‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اسٹوڈنٹس نے جو پارلیمنٹ حملہ کے مجرم افضل گرو کی پھانسی کے خلاف کیمپس میں منعقدہ ایک ایونٹ پر غداری کے الزام کے ساتھ گرفتار شدہ کنہیا کی رہائی کیلئے احتجاج کررہے ہیں، انھیں آزاد نہ کئے جانے پر دوشنبہ سے ہڑتال کردینے کی دھمکی دی ہے۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج یہاں جے این یو میں طلبہ کے گروپ کی جانب سے مبینہ مخالف ہند نعرے بازی کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ اقدام چیف منسٹر کجریوال سے سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی نیشنل سکریٹری ڈی راجہ، جے ڈی (یو) ایم پی کے سی تیاگی و دیگر قائدین پر مشتمل وفد کی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔  راہول نے بطور یگانگت لیفٹ قائدین کے ہمراہ کیمپس کا دورہ کرتے ہوئے اسٹوڈنٹس کو مخاطب کیا۔ انھوں نے کہا: ’’زیادہ تر مخالف قوم افراد وہ ہیں جو اس ادارہ میں اسٹوڈنٹس کی آواز کو دبا رہے ہیں۔

‘‘ اے بی وی پی جو آر ایس ایس کا اسٹوڈنٹس ونگ ہے، اس سے وابستہ اسٹوڈنٹس نے راہول کو سیاہ پرچم دکھائے اور اُن کے مختصر خطاب میں بار بار خلل اندازی کی جبکہ راہول نے حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی کا وقفے وقفے سے حوالہ دیتے ہوئے اس کیلئے حکومت پر تنقیدیں کیں۔ راہول نے بائیں بازو کی طرف میلان رکھنے والے طلبہ کی جانب سے پُرجوش داد و تحسین کے درمیان کہا کہ جرمنی میں ہٹلر نامی شخص ہوا کرتا تھا جس نے لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کو برباد کیا۔ اگر اُس شخص نے صرف دیگر لوگوں کی بات بھی سنی ہوتی تو شاید اُس ملک کو اتنی زیادہ تکلیف سے گزرنا نہیں پڑتا۔ اس دوران مرکزی حکومت کی طرف سے مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی ’’قطعی اور غیرمشروط نہیں ہوسکتی اور واجبی تحدید ہونا ضروری ہے‘‘۔ ’’یہ بدبختانہ واقعہ ہوا۔ لیکن یہ چھوٹے بچے نہیں جو نہیں جانتے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اظہار خیال کی آزادی کے نام پر آپ قوم کو رسوا نہیں کرسکتے ہو۔‘‘ دریں اثناء اس یونیورسٹی کے چانسلر اور سابق سربراہ اِسرو کے کستوری رنگن نے آج کیمپس کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ جے این یو کے چار ڈینس نے وی سی جگدیش کمار کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے اس طرزعمل کے خلاف احتجاج کیا جس طرح پولیس کو ’’دھاوا‘‘ کرنے کیلئے یونیورسٹی کی جانب سے اجازت دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT