Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی سے وقف جائیدادوں کو سب سے زیادہ نقصان

کانگریس پارٹی سے وقف جائیدادوں کو سب سے زیادہ نقصان

اسلاف کی وقف کردہ قیمتی جائیدادیں تباہی کا شکار، وقف مافیا کیخلاف احتجاجی جلسہ، جناب زاہدعلی خان و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔13 مارچ (سیاست نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے سیاسی جماعتوں بالخصوص حکمران طبقے کو ریاست کی وقف جائیدادوں کی تحفظ میں غیرسنجیدہ قراردیتے ہوئے کہاکہ اقتدار حاصل کرنے سے قبل تک مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے سیاسی جماعتیں وقف جائیدادوں کی صیانت کے متعلق بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیںمگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان دعوئوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کی صیانت میں فرض شناسی کے ساتھ کام کرنے والے عہدیداروںکے تبادلے میںعجلت کرتے ہیں۔ جناب زاہد علی خان دکن وقف پروٹکشن سوسائٹی کے زیراہتمام محبو ب حسین جگر ہال میںمنعقدہ ایک احتجاجی جلسہ عام سے صدارتی خطاب کررہے تھے۔ سابق ریاستی وزیر ڈاکٹر شنکر رائو‘ صدر دکن وقف پروٹکشن سوسائٹی عثمان بن محمدالہاجری‘ صدر مجلس بچائو تحریک ڈاکٹر قائم خان‘ جنرل سکریٹری ٹی پی ایف ثناء اللہ خان‘ جناب عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ ‘جنا ب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ‘ مقبول الہاجری‘ عبدالرحمن تلگودیشم قائد کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کیا۔ جناب زاہد علی خان نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا کی وقف جائیدادوں کوسب سے بڑا نقصان کانگریس پارٹی سے ہوا ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے کانگریس کے دور حکومت میں شمس آباد ائیر پورٹ کی وقف اراضی اور مذکورہ ائیرپورٹ کے رن وے کی تعمیر کے لئے مسجد انہدام کے واقعہ کا بھی اس موقع پر ذکر کیاانہوں نے کہاکہ درگاہ حسین شاہ ولی کی قیمتی وقف اراضی کو ذاتی جائیداد میںتبدیل کرکے لینکو ہلز ڈائرکٹر نے اندرون 48گھنٹے دس ہزار کروڑ کا منافع کمایا۔ جناب زاہد علی خان نے تین اُردو اخباروں کے مدیران کی جانب سے وقف جائیدادوں کی صیانت میںچلائی گئی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ شمس آباد ائیر پورٹ اور درگاہ حسین شاہ ولی کی موقوفہ اراضی کے بشمول ریاست کے دیگر وقف اراضیات کی صیانت اور بازیابی کے لئے تین اُردو اخبارات کے مدیران کی تحریک اس قدر اثر انداز ہوئی کہ وقت کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ہم تینوں مدیران کووقف جائیدادوں کی تباہی کے اس حساس مسلئے پر گفتگوکے لئے مدعو کیا اس کے علاوہ یوپی اے چیر پرسن سونیا گاندھی نے بھی دہلی مدعو کرکے وقف جائیدادوں کی صیانت کے متعلق طمانیت پیش کی تھی باوجود اسکے ناتو وقف بورڈ کو آر جی ائی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی آمدنی کا نصب حصہ دار مقرر کیاگیااور نہ ہی لینکو ہلز ڈائرکٹر کو ہوئے دس ہزار کروڑ منافع سے وقف بورڈ کو پانچ ہزار کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ ہمارے اسلاف نے ملت کے تابناک مستقبل اور انہیںانے والی مشکلات سے بچانے کی خاطر قیمتی اراضیات کو وقف کیا تھا جس کو سیاسی جماعتوں ‘ حکمرانوں اور لینڈ مافیا نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہوئے تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ وقف جائیدادوں کی حفاظت اور بازیابی ہماری نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے جس کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے مگر حالات اس کے برخلاف ہیںانہوں نے کہاکہ وقف جائیدادوں کی تفصیلات پر مشتمل دستاویزات پچاس روپئے کے عوض عابڈس کے فٹ پاتھ پر فروخت کردیئے جارہے ہیں انہوں نے مزیدکہاکہ وقف جائیدادوں کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ وقف جائیدادوں کی حفاظت او ربازیابی کے لئے کام کرنے والے عہدیداروں کے ساتھ حکومت کے برتائو کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ جناب زاہد علی خان نے مزیدکہاکہ ایک عرصہ دراز کے بعد ایک فرض شناس آفیسر نے اوقافی جائیدادوں کی صیانت کا بیڑا اٹھایا تھا مگر چالیس لیٹر ڈیزل کے زائد استعمال کا الزام عائدکرتے ہوئے ایسے فرض شناس عہدیدار کا تبادلہ کردیا گیا تاکہ وقف جائیدادوں کی صیانت کے متعلق چلائی جارہی تحریکات کو ختم کیاجاسکے اور لینڈ گرابرس کو وقف جائیدادوں پر قبضوں کا بھر پور موقع فراہم کیاجاسکے۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ وقف اراضی پر دھڑلوں کے ساتھ شادی خانوں کی تعمیر کے بعد اب ایک او ر واقعہ میںبشیر باغ مسجد نانا باغ کی وقف اراضی پر غیرمجاز قابض ایک ماورواڑی کے قبضے کوبرخواست کروانے کے لئے تیس سالوں تک مقدمہ لڑنے کے بعد محکمہ اوقاف بورڈ کو کامیابی حاصل ہوئی تھی مگر دوبارہ اسی قابض کو مسجد کی وقف اراضی کا کرایہ دار بنادیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حالات نے یہ ثابت کردیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت وقف اراضیات کی صیانت میںسنجیدہ نہیںہے اور وقف اراضیات کی صیانت کے وعدوں پرکوئی بھی سیاسی جماعت قابل ِ بھروسہ نہیں ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جلال الدین اکبرجیسے فرض شناس عہدیدارکا محکمہ اوقاف بورڈ میںدوبارہ تقرر عمل میںلاتے ہوئے شہراور مضافات کی ایک لاکھ ایکڑ وقف اراضی کی حفاظت او ربازیابی کو یقینی بناتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے مسلم نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کاکام کیاجاسکے۔سابق ریاستی وزیرشنکر رائونے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کی بازیابی او رحفاظت کیلئے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے پر زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ بدعنوانی اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانا اور گنہگاروں کو کیفرکردار تک پہنچانا ان کی اہم ذمہ داری ہے اور وہ سمجھتے ہیںکہ اس کام کے لئے اوپر والے ان کا انتخاب عمل میںلایا ہے ۔ شنکر رائونے کہاکہ محکموں سے نمائندگی کے بعد عدالتوں سے رجوع ہونا اور وہاں بھی ناکامی ملنے کی صورت میںہم ریاست تلنگانہ میںاوقافی جائیدادوں کی تباہی کے متعلق سی بی ائی تحقیقات کا مرکز او رریاستی حکومتوں پر دبائو ڈالیں گے ۔ انہوں نے وائی ایس جگن موہن ریڈی کیس کا بھی اس موقع پر حوالہ دیااور کہاکہ وقف جائیدادوں کی تباہی اور فروخت میں ملوث کسی بھی قائد کو نہیں بخشا جائے گا ۔ شنکر رائونے کہاکہ وقف جائیدادوں کی صیانت کے لئے چلائی جارہی ہر تحریک میںشامل رہیں گے اور ہرمحاذ پر ساتھ بھی دیں گے ۔ جناب عثمان بن محمد الہاجری نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کا استعمال کرتے ہوئے حکومت او ر وقف جائیدادوں کے قابضین اور بدعنوان عہدیداروں کی ملی بھگت کے ذریعہ وقف جائیدادوں کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنے والے جہدکاروں کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ اوقاف بورڈکی بدعنوانی کے خلاف دفتر وقف بورڈ پردھرنا منظم کرنے پر پی ڈی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے اور غیر ضمانتی مقدمہ کے تحت احتجاجیو ں کو جیل بھیجنے کا انتباہ دیا جارہا ہے انہوں نے مزیدکہاکہ پولیس کو چاہئے کہ وہ غیرسماجی عناصر کے ساتھ وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضے کرنے اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں پرپی ڈی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے شہر بدر کریں۔ ڈاکٹرقائم خان نے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کی صیانت میںحکومت کی بے بسی کو معنیٰ خیزقراردیا۔ انہوںنے کہاکہ جہاں پرمسلمانوں کے اجتماعی مفادات کی بات آتی ہے اور جو عمل سے مسلمانو ں کو مجموعی طور پرراست فائدہ پہنچتا ہے ایسے واقعات میںحکومتیں ایک مخصوص سیاسی طبقے کی نمائندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے سے روگردانی اختیار کرلیتی ہیں۔ڈاکٹر قائم خان نے کہاکہ قوم او رملت کے نام پر کی جانے والی لوٹ کھسوٹ کاایک روز اللہ کے حضور میں پوچھے جانے والے حساب کا ڈر اس قسم کی حرکتوں سے مسلمانوں او رمسلم قیادتوں کوباز رکھے گا۔

TOPPOPULARRECENT