Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / کانگریس کا مستقبل غیریقینی، شردپوار کی جذباتی وابستگی

کانگریس کا مستقبل غیریقینی، شردپوار کی جذباتی وابستگی

نئی دہلی۔21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) این سی پی کے بانی و سینئر لیڈر شردپوار نے کہا کہ وہ آج بھی دلی طور پر کانگریسی ہیں۔ تاہم انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ملک میں قدیم ترین اس پارٹی کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ شردپوار نے حال ہی میں جاری کردہ سوانح حیات میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے کام کرنے کے انداز سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پر حکمرانی گجرات پر حکمرانی کی طرح نہیں ہے۔ شردپوار نے 1999ء میں سونیا گاندھی کے بیرونی نژاد مسئلہ پر کانگریس سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جذباتی طور پر کانگریس سے ان کی وابستگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ کے دوران کانگریس کے ناقص مظاہرے سے انہیں کافی دکھ پہنچا ہے۔ مہاراشٹرا میں بارہ متی حلقہ لوک سبھا کی نمائندگی کرنے والے شردپوار ملک کے وزیر دفاع اور وزیر زراعت بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی پارٹی کے احیاء کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کا مستقبل فی الحال غیریقینی نظرآتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی کوئی مثبت علامت نہیں ہے کہ کانگریس کی سیاست اب صرف راہول گاندھی کے اطراف گھوم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کانگریس کے لئے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے قومی سطح پر بی جے پی کا ناقابل شکست متبادل ثابت ہونا ایک مشکل کام لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لہر کو روکنے کے لئے کانگریس کے پاس اس کے سوا کوئی متبادل نہیں کہ وہ چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ عوام میں حلیف جماعتوں کے مابین باہمی اعتماد کی فضاء بحال کی جائے۔ ایسی صورت میں ہی یہ اتحاد کامیاب ہوسکتا ہے اور اس معاملہ میں وہی جذبہ دکھایا جانا چاہئے جو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں دیکھا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت میں انہوں نے کافی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ این سی پی بھی اس اتحاد میں شامل تھی۔ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیاجانا چاہئے کہ آج کانگریس پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئی ہے۔ این سی پی لیڈر نے کہا کہ راہول گاندھی ابھی نوجوان ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لئے وقت دیا جانا چاہئے۔ راہول گاندھی کے ملک گیر دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس اس وقت انتہائی خراب حالت میں ہے اور حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اندازِ کارکردگی پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ کسی ایک ریاست جیسے گجرات میں اپنی مرضی کے مطابق حکمرانی کی جاسکتی تھی، لیکن قومی سطح پر یہی تکنیک نہیں اپنائی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مودی کے ڈیزائنر کرتے پر انحصار صحت مند علامت نہیں ہے۔ اسی طرح کانگریس کی سیاست بھی راہول گاندھی کے اطراف ہی گھومتی ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ بی جے پی کی مقبولیت کا گراف جو 2014ء میں بڑھا ہوا تھا ، اب مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی فوری موثر اقدامات نہ کرے تو طویل عرصہ تک اقتدار پر برقرار رہنا مشکل ہوگا۔ شردپوار نے یہ انکشاف کیا کہ 1991 ء میں راجیو گاندھی کی ہلاکت کے بعد وہ ان قائدین میں شامل تھے جنہوں نے سونیا گاندھی کو صدارتی عہدہ سنبھالنے کی پیشکش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT