Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / کانگریس کا مشن یو پی

کانگریس کا مشن یو پی

دل تو ایک ہے لیکن نام دل بدلتا ہے
بس گیا تو گلشن ہے لُٹ گیا تو صحرا ہے
کانگریس کا مشن یو پی
جیسے جیسے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوتی جارہی ہے ۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ رائے دہندوں کو راغب کیا جاسکے اور ان کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ ریاست میں برسر اقتدار سماجودای پارٹی کیلئے حالات سازگار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔اقتدار کی دوسری بڑی دعویدار بہوجن سماج پارٹی کیلئے بھی گذشتہ کچھ وقت ٹھیک نہیںرہا جب اس کے سینئر قائدین نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی تاہم گذشتہ دنوں یو پی بی جے پی کے نائب صدر نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف جو ناذیبا ریمارک کیا ہے اس سے بی ایس پی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اسی طرح گجرات میں دلتوں پر حملوں اور خود کشی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ریاست میں بی جے پی کو گھیرنے کی تقریبا ہر جماعت کوشش کر رہی ہے اور اس میں بی ایس پی سب سے آگے ہے ۔ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش سے بھاری کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اسے یقین تھا کہ اسمبلی انتخابات میں بھی اسے اقتدار حاصل ہوگا ۔ اس کیلئے پارٹی نے منصوبے بنانے بھی شروع کردئے ہیں اور جہاں اپنے اعلی قائدین کو یو پی میں ذمہ داریاںدی جا رہی ہیں وہیں فرقہ وارانہ منافرت بھڑکانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں کچھ علاقائی جماعتیں بھی اپنے وجود کا احساس دلانے کوشاں ہیں۔ ان حالات میں کانگریس پارٹی کہیں پس منظر میں چلی گئی تھی ۔ گذشتہ 27 سال سے کانگریس کا یو پی میں برا حال ہے ۔ اب کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ ریاست میں اپنی عظمت رفتہ کو بحال کیا جائے ۔ اس کیلئے پارٹی نے بھی اپنے طور پر تیاریاں شروع کردی ہیں۔ غلام نبی آزاد کو ریاست کا نگران جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے ۔ شیلا ڈکشت کو یو پی میں چیف منسٹر امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور پارٹی نے ابھی سے اپنی مہم کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ پارٹی مشن یو پی کے نام سے مہم چلا رہی ہے اور اس نے 27 سال ۔ یو پی بے حال کا نعرہ پیش کیا ہے ۔ پارٹی قائدین اور خاص طور پر کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہی اس کیلئے سب سے اہم کام ہوگا ۔
ریاست میں جب سے علاقائی جماعتوں کا عروج ہوا ہے اور جب سے بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست نے اس ریاست میں اپنے اثرات چھوڑے ہیں اس وقت سے کانگریس پارٹی کو یہاں مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ 27 سال کا عرصہ معمولی بات نہیں ہے اور اس سارے عرصے میں کانگریس یو پی سیاست میں چھٹی انگلی بن کر رہ گئی تھی ۔ ریاست کے عوام کو کانگریس سے دور کرنے کے کئی عوامل رہے ہیں اور پارٹی کو ان تمام عوامل کا جائزہ لے کرعوام کو قریب کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اتر پردیش کی سیاست ذات پات ‘ مذہب و مسلک کے گرد گھومتی ہے اور کانگریس کو تمام امور کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی تیز رفتار دوڑ کو اس ریاست میں بریک لگ سکتا ہے اگر تمام اپوزیشن جماعتیں جامع حکمت عملی کے ساتھ انتخابی مقابلہ کیلئے کمر کس لیں۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا اپنا ووٹ بینک ہے جو معمولی فرق کے ساتھ آگے پیچھے ہوتا ہے ۔ بی جے پی کو بھی گذشتہ برسوں میں یہاں مشکلات کا سامنا رہا ہے لیکن لوک سبھا انتخابات کی کامیابی نے اس کے حوصلے ہنوز بلند رکھے ہیں۔ کانگریس کو اپنے لئے ان تمام جماعتوں کے درمیان جگہ بنانے جدوجہد کرنی پڑیگی اور اس نے ابھی سے یہ جدوجہد شروع کردی ہے تاکہ جن قائدین کو ریاست کی ذمہ دار ی دی گئی ہے انہیں اپنے کام کی انجام دہی کیلئے مناسب وقت مل سکے ۔ جو قائدین اتر پردیش میں کانگریس کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وقت سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔
27 سال تک اقتدار سے دوری کے باعث یو پی کانگریس میں کسی بلند قامت اور عوامی مقبولیت رکھنے والے قائد کا فقدان دیکھا جا رہا ہے ۔ ایسے میں کانگریس کو اتر پردیش کی سیاسی لڑائی دہلی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر سے لڑنی پڑیگی اور جامع منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ساتھ اسے نئے حوصلے اور عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔ جس طرح کے نعرے دئے جا رہے ہیں اور عوام سے رابطوں پر توجہ دی جا رہی ہے اسی طرح سے پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کو پرجوش بنانے کی ضرورت ہے ۔ ان میں حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو دوبارہ کانگریس سے قریب لانے میں پارٹی کا نچلی سطح کا کیڈر اہم رول نبھا سکتا ہے اور اسی کیڈر کو پارٹی کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری کے ساتھ جدوجہد کیلئے تیار کرنا پارٹی کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT