Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / کانگریس کو اس کے گھمنڈ نے توڑا : کے ٹی آر

کانگریس کو اس کے گھمنڈ نے توڑا : کے ٹی آر

ٹی آر ایس کو کچلنا کانگریس کے لیے ایک منٹ کی بات : جانا ریڈی ، اسمبلی میں نوک جھونک
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر کے درمیان اسمبلی میں زبردست نوک جھونک ہوگئی ۔ جانا ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کو کچلنا کانگریس کے لیے ایک منٹ کی بات تھی ۔ ریاست اور مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دے کر افسوس ہورہا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گھمنڈ و تکبر کے باعث قومی جماعت کانگریس علاقائی جماعت بن کر رہ گئی ۔ ریاست تلنگانہ تشکیل دینے کے ریمارکس سے فوری دستبردار ہوجائے ۔ اسمبلی میں مشین بھاگیرتا کے مختصر مباحث میں ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے میرا تلنگانہ اور ہمارے لوگ کا ریمارکس کیا جس پر قائد اپوزیشن جانا ریڈی برہم ہوگئے ۔ میرا کیا مطلب ہمارا کہو کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ اگر آبپاشی پراجکٹس کے معاملے میں ٹی آر ایس کے عزائم ہوسکتے ہیں تو کانگریس کو ان پر شک ہے ۔ ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جب جانا ریڈی وزیر تھے اس وقت کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے صرف ضلع چتور کے لیے 7000 کروڑ روپئے پراجکٹ کے لیے منظور کئے تھے ۔ تب جانا ریڈی کے بشمول تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے کوئی اعتراض نہیں کیا اب سارے تلنگانہ کے لیے 40 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں تو کانگریس کو اعتراض کیوں ہے ۔ کانگریس نے اپنی مرضی سے عوام کی مرضی کے خلاف تلنگانہ کو سیما آندھرا میں ضم کیا تھا ۔ 1969 میں مجاہدین تلنگانہ کو گولیوں سے چھننی کردیا گیا ۔ ٹی آر ایس کی جدوجہد کے بعد مجبور ہو کر کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ باوجود اس کے تلنگانہ کے عوام نے ٹی آر ایس پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا اور کانگریس کو اپوزیشن میں رکھا ہے ۔ جانا ریڈی نے کہا کہ آندھرا کے ارکان اسمبلی نے جب استعفیٰ دیا تھا تو تمہارے والد کے سی آر میرے گھر چل کر آئے تھے اور ہم نے آپس میں اتفاق کرنے کے بعد ہی استعفیٰ دیا اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے لیے پارٹی صدر سونیا گاندھی پر دباؤ ڈالا تھا ۔ ٹی آر ایس کی تائید کرنے پر تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو کافی توہین برداشت کرنی پڑی تھی ۔ ہم ریاست اور مرکز میں برسر اقتدار تھے چاہتے تو ایک منٹ میں ٹی آر ایس کو کچل سکتے تھے تاہم ہم نے ہر جگہ آپ کا تحفظ کیا الیکشن میں عوامنے ٹی آر ایس پر اعتماد کا اظہار کیا ۔ مگر چیف منسٹر کے پاس عوامی مسائل پر بات چیت کرنے کے لیے وقت نہیں ہے ۔ کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے مگر اقتدار حاصل کرتے ہی ٹی آر ایس کا رویہ غیر جمہوری ہوگیا ہے ۔ ان ریمارکس پر کے ٹی آر ناراض ہوگئے اور کہا کہ جانا ریڈی ایک سینئیر قائد ہے ۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں وہ فوری ٹی آر ایس کو کچلنے اور تلنگانہ تشکیل دے کر افسوس ہونے کا جو ریمارکس کیا ہے اس سے فوری دستبردار ہونا چاہئے ۔ گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے قومی جماعت کانگریس علاقائی جماعت میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ جانا ریڈی نے دوبارہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دے کر افسوس ہونے کا ریمارک نہیں کیا بلکہ ٹی آر ایس کی تائید کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT