Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کو مخالف تلنگانہ جماعت قرار دینے کی مذمت

کانگریس کو مخالف تلنگانہ جماعت قرار دینے کی مذمت

کے ٹی آر سیاست میں نومولود۔ تاریخ تلنگانہ سے واقف نہیں۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی کا رد عمل
حیدرآباد 17 جولائی ( سیاست نیوز ) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے ریاستی وزیر کے ٹی آر کو نومولود قرار دیتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے والی کانگریس کو تلنگانہ کی دشمن قرار دینے کی سخت مذمت کی ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر سیاسی میدان میں نووارد ہیں ۔ ہندوستان کو آزاد کرانے میں اہم رول ادا کرنے والی کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ فرقہ پرست بی جے پی سے قریب ہونے امیت شاہ اور نریندر مودی کی تائید حاصل کرنے کے ٹی آر کانگریس پر من گھڑت الزامات عائد کررہے ہیں اور اپنے آپ کو مجاہد تلنگانہ کی طرح پیش کررہے ہیں ۔1969 ہو یا ٹی آر ایس کی تشکیل سے قبل تلنگانہ کے کانگریس قائدین ہی علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک چلائی اور کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی کو مناتے ہوئے علحدہ ریاست حاصل کی ہے ۔ 2009-14 تک تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں تلنگانہ کی آواز اٹھائی استعفے دئیے ۔ احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر رات دن گذارے حکمران جماعت کے ارکان ہونے کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہیں کیا یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی کارروائی سے معطل بھی ہوئے ۔ اس وقت کے سی آر کبھی پارلیمنٹ میں کانگریس ارکان کی تائید میں کھڑے نہیں ہوئے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ وہ بے لگام باتیں نہ کریں اور خود دھوکے میں رہتے ہوئے تلنگانہ کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ تلنگانہ کے عوام سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں دھوکہ باز تو ٹی آر ایس ہے ۔ جنہوں نے تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت کو بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا ۔ علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے دغا بازی کی اور تلنگانہ کابینہ میں نصف سے زائد مخالفین تلنگانہ کو شامل کیا ہے ۔ کے ٹی آر جس زبان اور لہجے میں بات کررہے ہیں کانگریس بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی ہے ۔ مگر کانگریس کی تہذیب اس کی ہمیں اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ کانگریس کے صبر و تحمل اور خاموشی کو کے ٹی آر اور ٹی آر ایس کمزوری سمجھنے کی ہرگز کوشش نہ کریں ۔

TOPPOPULARRECENT