Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کو ٹی آر ایس کے وعدوں پر استفسار کا کوئی حق نہیں

کانگریس کو ٹی آر ایس کے وعدوں پر استفسار کا کوئی حق نہیں

پی سی سی سے جاری کردہ سوالنامہ جھوٹ پر مبنی ، ٹی آر ایس ایم ایل سی کے پربھاکر کی برہمی
حیدرآباد۔/12نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے کانگریس پارٹی کی جانب سے حکومت سے 50 سوالات پر مبنی کتابچہ جاری کرنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی کو وعدوں کی تکمیل کے بارے میں حکومت سے استفسارات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ 50 سوالات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں چندر شیکھر راؤ کی سنجیدگی پر شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں حکومت نے وعدوں کی تکمیل کے علاوہ بعض نئی اسکیمات کا آغاز کیا جن کا انتخابی منشور میں وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ پربھاکر نے کہا کہ کانگریس قائدین کو اپنے دورِ حکومت میں تلنگانہ کو نظرانداز کئے جانے پر عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے کیونکہ آندھرائی حکمرانوں کے دباؤ کے تحت یہ قائدین تلنگانہ سے ناانصافیوں پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قائدین تلنگانہ کی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں انہیں حکومت سے سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں اور کے سی آر نے انتخابی منشور کے کئی اہم وعدوں پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غریبوں کیلئے پنشن کی رقم میں اضافہ، بے زمین افراد کیلئے اراضی کی فراہمی، غریبوں کیلئے دو بیڈ رومس پر مشتمل مکانات کی تعمیر، زرعی شعبہ کو خشک سالی سے بچانے کیلئے واٹر گرڈ اور مشن کاکتیہ پروگرامس کا آغاز، ایک لاکھ سے زائد مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے عمل کا آغاز اور طلباء کیلئے اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی جیسی اہم اسکیمات پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس قائدین حکومت سے سوالات کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے سی آر کی قیادت میں عوام کی بھلائی اور تلنگانہ کی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل اس کا اہم مقصد ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی پر سیاسی مقصد براری کیلئے حکومت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ورنگل میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے چیف منسٹر کی حیثیت سے کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ کیلئے ایک روپیہ بھی منظور نہ کرنے کا اسمبلی میں اعلان کیا تھا لیکن کانگریس کے تلنگانہ قائدین نے احتجاج کی ہمت نہیں دکھائی آج وہ ٹی آر ایس حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پردیش کانگریس کمیٹی نے جو سوالنامہ تیار کیا ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سروے ستیہ نارائنا کو ورنگل سے امیدوار بنایا جبکہ وہ غیر مقامی ہیں۔ سروے ستیہ نارائنا مخالف تلنگانہ ہیں اور تلنگانہ تحریک کے دوران اپنی وزارت بچانے کیلئے انہوں نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی مخالفت کی تھی۔ ورنگل کے عوام انہیں مسترد کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT