Wednesday , June 28 2017
Home / سیاسیات / کانگریس کو گوا اور منی پور پر احتجاج کا حق نہیں : بی جے پی

کانگریس کو گوا اور منی پور پر احتجاج کا حق نہیں : بی جے پی

اپوزیشن پارٹی نے اپنا لیڈر تک منتخب نہیں کیا ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کا بیان
نئی دہلی 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) منی پور اور گوا میں پارٹی حکومتوں کے قیام پر کانگریس کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی نے آج کہا کہ کانگریس پارٹی عددی طاقت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہے اور اسے اپنے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں اب احتجاج کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کئی غیر کانگریسی حکومتوں کو اختیارات اور دفعہ 356 کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کئی مرتبہ اقتدار سے بیدخل کیا ہے ۔ اس نے کئی مرتبہ واحد بڑی جماعت کو تشکیل حکومت کا موقع نہیں دیا ہے اور اسے اب تنقیدیں کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں کسی نے جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ کانگریس ہے ۔ کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں نے اس مسئلہ پر آج لوک سبھا میں احتجاج کیا اور ایوان سے واک آوٹ بھی کردیا ۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے نائیڈو نے جھارکھنڈ ‘ بہار ‘ کرناٹک اور آندھرا پردیش میں ماضی میں حکومتوں کی تشکیل کی مثالیں پیش کیں۔ نائیڈو نے کہا کہ ہمارے پاس درکار عددی تعداد حاصل ہے ۔ کانگریس نے اپنا لیڈر تک منتخب نہیں کیا ہے ۔ ہمارے پاس منتخب لیڈر موجود ہیں۔ یہ لوگ درکار عددی طاقت حاصل نہیں کرسکے اس کے باوجود وہ احتجاج کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کانگریس کے احتجاج کو غلط مہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوا اور منی پور میں کسی بھی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ دوسری جماعتوں نے بی جے پی حکومتیں قائم کرنے مدد فراہم کی ہے ۔ انہوں نے اپنے لیڈر بھی منتخب کرلئے ہیں اور گورنروں کو اپنے مکتوب بھی پیش کردئے ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ گورنر گوا نے تمام تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی منوہر پریکر کو تشکیل حکومت کیلئے مدعو کیا ہے ۔ تاہم جس طرح سے کانگریس نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے ایسا کرنا کانگریس کو ذیب نہیں دیتا۔ اسے گورنر کے عہدہ کا بیجا استعمال کرنے کا الزام بھی عائد نہیں کرنا چاہئے ۔ گورنر کسی پارٹی کے ادعا کی بنیاد پر اور ماقبل انتخابات مفاہمتوں کی بنیاد پر کسی کو تشکیل حکومت کی دعوت دیتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT