Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کانگریس کی خاندانی سیاست مسلط کرنے کی کوششوں سے ایمرجنسی کے دور کا احیاء

کانگریس کی خاندانی سیاست مسلط کرنے کی کوششوں سے ایمرجنسی کے دور کا احیاء

NEW DELHI, AUG 13 (UNI):-NDA leaders participating in a march to Parliament to condemn the obstruction created by the opposition in Parliament, in New Delhi on Thursday. UNI PHOTO-65U

اپوزیشن کے خلاف این ڈی اے کی ملک گیر مہم، حکمران محاذ کے ارکان پارلیمنٹ سے وزیراعظم کا خطاب

نئی دہلی ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اپوزیشن کے احتجاج کے نذر ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی ہیکہ ملک بھر میں گھوم کر کانگریس کو بے نقاب کریں جس نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو درہم برہم کردیا تھا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایمرجنسی کے دور سے تعبیر کیا جب کانگریس نے صرف ایک خاندان تک اقتدار مرکوز کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کانگریس کے غیرجمہوری چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور ہم عوام سے رجوع ہوں گے اور ہمارے قائدین ملک بھر میں دورہ کرتے ہوئے کانگریس کو بے نقاب کریں گے جوکہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے آج این ڈی اے (قومی جمہوری محاذ) پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ایک خاندان کا تحفظ کرنا چاہتی ہے جبکہ بی جے پی ملک کی حفاظت چاہتی ہے اور یہ ہمارے بنیادی اصول ہیں۔ وزیراعظم نے این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ اور وزراء سے کہا کہ ایک ماہ طویل مہم کے دوران ملک گیر سطح پر بالخصوص کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کی نمائندگی والے حلقوں کو نشانہ نہ بنائیں۔ نریندر مودی نے اپنی 25 منٹ تقریر میں یہ اعادہ کیا کہ ان کی حکومت غریب اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے عہد پر کاربند ہے اور کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کی تیز رفتار ترقی میں اڑچن پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ حکومت کی کاوشوں کو ناکام بنانے کیلئے کانگریس کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت تمام دیرینہ تنازعات کو متواتر یکسوئی کی کوشش میں ہے۔ ناگا صلح معاہدہ اور بنگلہ دیش کے ساتھ اراضی حد بندی معاہدہ کو اجاگر کیا۔ مملکتی وزیر پارلیمانی امور راجیو پرتاب روڈی نے بتایا کہ وزیراعظم نے جئے پرکاش نارائن کی تحریک کے دوران بحیثیت ایک سیاسی کارکن ان ایام کا تذکرہ کیا جب ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام اختیارات کو ایک خاندان تک محدود کردینے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ ادعا کیا کہ موجودہ صورتحال بھی اس دور کی یاد تازہ کررہی ہے۔ این ڈی اے پارلیمانی پارٹی نے مانسون اجلاس میں کانگریس کی عمداً خلل اندازی اور زور زبردستی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی  اور عوام سے اپیل کی ہیکہ کانگریس کے غیرجمہوری طرزعل پر سبق سکھائیں۔ بعدازاں این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ نے جمہوریت بچاؤ مارچ (جلوس) وجئے چوک سے مجسمہ گاندھی جی احاطہ پارلیمنٹ نکالا۔ پارلیمنٹ میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں اور تلخ و ترش تنقیدوں کے بعد حکمران محاذ نے جب مارچ کیا، جس کی قیادت مرکزی وزراء، راجناتھ سنگھ، ارون جیٹلی، سشماسوراج، وینکیا نائیڈو اور نتن گڈکری نے کی اور اس جلوس میں سرکردہ قائدین کے ساتھ بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی بھی شامل تھے۔ ارکان پارلیمنٹ نے اپنے ہاتھوں میں ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ کے پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT