Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کانگریس کے جریدہ میں نہرو اور سونیا گاندھی کے خلاف ریمارکس

کانگریس کے جریدہ میں نہرو اور سونیا گاندھی کے خلاف ریمارکس

سونیا گاندھی کے والد فاشسٹ سپاہی تھے، چین و کشمیر کے حالات کیلئے پنڈت نہرو ذمہ دار ،’کانگریس درشن‘ کے مضامین
ممبئی ۔ 28 ۔ دسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) ممبئی سٹی کانگریس کے ترجمان جریدہ میں چین سے متعلق پنڈت جواہر لعل نہرو کی پالیسی پر سوال ا ٹھائے جانے اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے والد کو اٹلی کے ایک فاشست سپاہی قرار دیئے جانے کے بعد یہ پارٹی زبردست الجھن و پشیمانی کی شکار ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میں جریدہ کے ایڈیٹر سنجے نروپم نے اس مسئلہ پر معذرت خواہی کرتے ہوئے ادارتی مواد کی تنقیح کرنے والے سدھیر جوشی کو برطرف کردیا۔ کانگریس کے ہندی جریدہ ’’کانگریس درشن‘‘ کے ایک مضمون میں تبت، چین اور کشمیر کے حالات و معاملات کیلئے پنڈت نہرو کو مورد ا لزام ٹھہرایا گیا تھا ۔ ا یک دوسرے مضمون میں سونیا گاندھی کے والد اسٹیفانو مائینو کو فاشست سپاہی قرار دیتے ہوئے کئی متنازعہ ریمارکس کئے گئے تھے۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے شائع کردہ ایک مضمون میں پنڈت نہرو کے ساتھ پٹیل کے کشیدہ تعلقات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اس مضمون میں ایک مک توب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو سردار پٹیل نے 1950 ء میں جواہر لعل نہرو کے نام لکھتے ہوئے ان کی چینی پالیسی کے خلاف خبردار کیا تھا ۔ پٹیل نے اس مکتوب میںچین کوایک بے بھروسہ ملک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں وہ ہندوستان کا دشمن بن سکتا ہے ۔ مضمون نے یہاں تک لکھ دیا کہ اگر پٹیل کے ان مشوروں کو نہرو مان لئے تو کشمیر، چین ، تبت کے ایسے مسائل نہ ہوتے جو اب ہیں۔ پٹیل نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیجانے نہرو کے اقدام کی مخالفت بھی کی تھی۔ سونیا گاندھی سے متعلق ایک مضمون میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کے والد اسٹیفانو مائینو ایک فاشسٹ سپاہی تھے لیکن سونیا نے کانگریس وراثت میں اہم مقام بنایا۔ انہوں نے صرف 1997 ء میں کانگریس کی ابتدائی رکنیت حاصل کی جس کے صرف 62 دن بعد اس قدیم قومی جماعت کی صدارت پر فائز ہوگئیں اور انہوں (سونیا) نے حکومت تشکیل دینے کی ناکام کوشش کی  تھی۔ مہاراشٹرا میں کانگریس کے ترجمان ایک جریدہ میں خود اپنے ہی سرکردہ قائدین پنڈت جواہر لعل نہرو اور سونیا گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے شائع شدہ مضامین پر ممبئی سٹی کانگریس نے اس یونٹ کے صدر اور جریدہ کے ایڈیٹر سنجے نروپم پر سخت تنقید کی اور ان سے اس مسئلہ پر معذرت خواہی کرتے ہوئے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ۔ ممبئی سٹی کانگریس کے ایک سینئیر لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ممبئی یونٹ کے ترجمان جریدہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیوں کہ یہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے موسوم کیا گیا تھا ۔ اس دوران مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے اس تنازعہ کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ نروپم از خود وضاحت کرچکے ہیں چنانچہ اب وہ اس پر مزید تبصرہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ کانگریس کے 131 ویں یوم تاسیس کے موقع پر جاری اس شمارہ میں تبت ، چین اور کشمیر کے معاملات کے لیے جواہر لعل نہرو کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے ۔ ایک دوسرے مضمون میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کئے گئے ہیں ۔ جس کے پیش نظر سنجے نروپم نے اگرچہ تحقیقات کا حکم دیا ہے لیکن دعویٰ کیا کہ وہ اس مواد سے باخبر نہیں تھے ۔مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے طنزیہ انداز میں سنجے نروپم کو ’’مبارکباد‘‘ دیتے ہوئے کہاکہ کانگریس درشن کا نام بدل کر ’’ستیارتھ درشن‘‘ کردینا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان ٹام وڈکن نے دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اس جریدہ سے کانگریس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ نروپم کو اس جریدہ کا ایڈیٹر کانگریس نے مقرر کیا تھا ۔ جاؤڈیکرنے کہا کہ کانگریس کے ترجمان رسالہ میں پٹیل کے بارے میں مضمون شائع کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر صداقت پر مبنی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT