Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کے قائدین حکومت کی سیکوریٹی سے محروم

کانگریس کے قائدین حکومت کی سیکوریٹی سے محروم

محمد علی شبیر کے دورہ حلقہ گجویل پر سیکوریٹی سے دستبرداری ، کانگریس قائدین کو اظہار حیرت
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے انتخابی حلقہ گجویل میں کانگریس قائدین کو اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب اچانک ان کی سیکوریٹی پر تعینات پولیس عہدیداروں کو ہٹالیا گیا ۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کے علاوہ سابق ریاستی وزیر سنیتا لکشما ریڈی نے کل رات گجویل اسمبلی حلقہ کے مواضعات ایراولی اور سنگارم کا دورہ کیا۔ ایراولی میں چیف منسٹر کا وسیع و عریض فارم ہاؤز ہے جہاں وہ اکثر قیام کرتے ہوئے سرکاری کام کاج انجام دیتے ہیں۔ کانگریس قائدین کے دورہ کے موقع پر عوام میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ حکومت کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے ملنا پراجکٹ سے 14 مواضعات کے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے جس سے عوام میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کانگریس قائدین پروگرام کے مطابق جب ایراولی پہنچے تو عوام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ محمد علی شبیر کی قیادت میں میدک کے کانگریس قائدین نے 8 مواضعات کا دورہ کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر سے کسانوں اور عوام کو ہونے والے نقصانات کو اجاگر کیا۔ قائد اپوزیشن کو کابینی وزیر کا درجہ حاصل ہے اور ان کے دورہ کے موقع پر سیکوریٹی کے انتظامات ناگزیر ہیں۔ پولیس نے پروٹوکول کے مطابق سیکوریٹی فراہم کی تھی لیکن چیف منسٹر کے علاقہ کا دورہ کرتے ہی اچانک پولیس کو ہٹالیا گیا۔ اس سلسلہ میں جب محمد علی شبیر نے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کیا تو انہوں نے کچھ بھی کہنے  سے گریز کیا۔ بتایا جاتاہے کہ حیدرآباد سے چیف منسٹر کے دفتر کی ہدایت کے بعد ضلع ایس پی نے پولیس کو سیکوریٹی انتظامات سے دستبردار کرلیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پراناہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے چھوٹے آبپاشی پراجکٹس کسانوں کیلئے نقصاندہ ہے۔ 14 مواضعات زیر آب آسکتے ہیں اور سینکڑوں خاندان نقل مقام کیلئے مجبور ہوجائیں گے۔ چیف منسٹر کے حلقہ میں کانگریس قائدین کو غیر معمولی عوامی تائید حاصل ہوئی اور عوام میں ناراضگی دیکھی گئی۔ کانگریس کے جلسہ میں عوام نے مائیک پر چیف منسٹر کے خلاف نعرے لگائے۔ مقامی نوجوانوں نے  موٹر سیکل ریالی کے ذریعہ کانگریس قائدین کا استعمال کیا اور ان کی جدوجہد کی تائید کا یقین دلایا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کے مخالف عوام فیصلوں کا خمیازہ بہت جلد ٹی آر ایس کو بھگتنا پڑے گا ۔ چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ میں عوامی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس قائدین کو مقررہ وقت سے دو گھنٹے زائد عوام کے درمیان رکنا پڑا اور وہ ان کے مسائل کی سماعت کرتے رہے۔

TOPPOPULARRECENT