Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی تردید

کانگریس کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی تردید

ہائی ڈرامہ ختم ، بریک فاسٹ ڈپلومیسی کے بعد محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 7 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر کی بریک فاسٹ ڈپلومیسی ، ناگیندر کے بشمول 3 کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل نے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی افواہوں کی تردید کی ۔ کانگریس میں جاری ہائی ڈرامے کا آج خاتمہ ہوگیا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے آج اپنی قیام گاہ پر صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی مسٹر ڈی ناگیندر اور کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین ، مسٹر رنگاریڈی ، مسٹر سنتوش کو مدعو کیا ۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چاروں قائدین نے ان کے خلاف چل رہی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس میں ہی رہیں گے ۔ کانگریس پارٹی نے انہیں بہت کچھ دیا ہے ۔ کانگریس کے لیے نازک دور عارضی ہے اور اس وقت ہم کانگریس میں رہتے ہوئے پارٹی کو مستحکم کریں گے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس عوامی جماعت ہے اور عوامی بھلائی کے لیے کام کرتی ہے ۔ صدر کانگریس مسز سونیاگاندھی نے آندھرا پردیش میں کانگریس کو نقصان پہونچنے کا اندازہ کرنے کے باوجود علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیتے ہوئے اپنے وعدے کو نبھایا ہے ۔ اس وقت صدر ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر نے سونیا گاندھی کو تلنگانہ کی ماں قرار دیا تھا ۔ تاہم آج اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے قائدین کو دولت اور عہدوں کا لالچ دیتے ہوئے یا ڈرا دھمکا کر ٹی آر ایس میں شامل کررہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ ٹی آر ایس کی عارضی کامیابی ہو ۔ مستقبل میں ٹی آر ایس آپسی جھگڑوں ، قائدین کی گروپ بندیوں اور اختلافات کی وجہ سے اس طرح بکھر جائے گی کہ پھر کبھی سنبھل نہیں پائے گی ۔ چیف منسٹر تلنگانہ دوسری جماعتوں کے منتخب قائدین کو اپنی جماعت میں شامل کرتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں لیکن یہ ان کی کوشش مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ جب کشتی میں وزن بڑھ جاتا ہے تو وہ غرق ہوجاتی ہے ۔ ٹی آر ایس کی بھی یہی حالت ہوگی ۔ جمہوریت میں اپوزیشن واچ ڈاک ہوتی ہے ۔ مگر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو جمہوریت پر یقین نہیں ہے ۔ اس لیے وہ ایوانوں سے اپوزیشن کو خالی کرنے کی کوشش کریں گے مگر ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کانگریس تیزی سے ابھرے گی اور 2019 میں اقتدار حاصل کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT