Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / کتب سابقہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ

کتب سابقہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ

حبیب سہیل بن سعید
تیسری و آخری قسط

انجیل میں ایک مقام پر یوں آیا ہے کہ ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے، یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا، بلکہ ان سے بھی بڑے کام کرے گا، کیونکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔ اور جو کچھ تم میرے نام سے چاہو گے میں وہی کروں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پائے۔ اگر میرے نام سے کچھ چاہو گے تو میں وہی کروں گا۔ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے‘‘۔    (یوحنا کی انجیل، باب۴، آیات۱۲تا۱۶)

پھر فرمایا: ’’لیکن جب وہ مددگار آئے گا، جن کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی روحِ حق جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا‘‘۔ (یوحنا کی انجیل، باب۱۴، آیت۲۶)
قرآن پاک میں ہے: ’’اور جب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اس حال میں کہ میں اس تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور ایک عظیم رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے‘‘ (سورۃ الصف۔۶) اس بشارت کی تصدیق انجیل میں یوں ہے کہ ’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ سے اس کا کچھ نہیں‘‘ (یوحنا کی اجیل، باب۱۴، آیت۳۰) دوسرے مقام پر ہے کہ ’’وہ میری گواہی دے گا‘‘۔
(یوحنا کی انجیل، باب۱۴، آیت۲۶)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں لوگوں کی بہ نسبت ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی (باپ شریک) بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)

ان آیات میں ہے کہ ’’وہ تم کو سچائی کی راہ دِکھائے گا‘‘ (یوحنا کی انجیل، باب۱۶، آیت۳) اور قرآن مجید میں اللہ تعالی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ’’بے شک آپ ضرور سیدھے راستے کی ہدایت دیتے ہیں‘‘ (سورۃ الشوریٰ۔۵۲) مزید یہ ہے کہ ’’وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا‘‘ (یوحنا کی انجیل، باب۱۶، آیت۱۳) اور قرآن مجید میں یوں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور وہ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے، ان کا فرمانا وہی ہوتا ہے جس کی ان کی طرف وحی کی جاتی ہے‘‘ (سورۃ النجم۔۳،۴) آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ’’وہ تمھیں آئندہ کی خبریں دے گا‘‘ (یوحنا کی انجیل، باب۱۶، آیت۱۳) یہ پیش گوئی بھی تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے اور اس کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک مقام پر تشریف فرما ہوئے اور آپﷺ نے قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان کردیئے، جس نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا، جس نے ان کو بھلا دیا اس نے بھلادیا‘‘۔ (بخاری و مسلم)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے اور آپﷺ نے مخلوق کی ابتداء سے خبریں دینی شروع کیں، حتی کہ اہل جنت اپنے گھروں میں داخل ہو گئے اور اہل نار اپنے گھروں میں داخل ہو گئے، جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا‘‘۔ (صحیح بخاری)
الغرض ہر نبی نے اپنے اپنے زمانے میں بشارتیں دی ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے قصے ہر نبی و رسول کی زبان سے بیان کروائے گئے اور ہر امت کو سنائے گئے، لہذا ایسا عظیم رسول کہ جن کی آمد کا چرچا ہزاروں برس بلکہ ابتدائے خلق سے ہوتا رہا ہو، اگر خود اس نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کی میلاد کا ذکر کرے تو یہ بدعت کیونکر ہوگا؟۔ اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی مجالس منعقد کرنے، آپﷺ کی سیرت و سنت کو سننے اور اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)

 
فداک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!
حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور اقدس ہوا تو عرب کے اُجڑے دیار میں بہار آگئی، عداوت کی جگہ محبت، وحشت کی جگہ انس، انتقام کی جگہ عفو، خود غرضی کی جگہ اخلاص و ایثار اور غرور و تکبر کی جگہ تواضع و انکسار نے لے لی۔ حضورﷺ کی برکت سے عرب کے صحرا نشینوں نے تاریخِ عالم کا رُخ موڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے احسانِ عظیم فرمایا اور اپنے محبوب کی فیض نگاہ و برکت سے ٹوٹے ہوئے دِلوں کو جوڑدیا اور سب کو بھائی بھائی بنادیا۔ ذلت و رسوائی کی پستیوں سے نکال کر ترقی و عزت کی شاہراہ پر گامزن کیا۔ لوگ دوزخ کے کنارے کھڑے تھے، لیکن رحمت الہٰی نے دستگیری فرمائی اور انسانوں کو جہنم کی آگ سے بچنے کے لئے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہدایت کا راستہ دِکھایا۔

TOPPOPULARRECENT