Wednesday , May 24 2017
Home / مضامین / کجریوال جی ’’ سنبھلنے دے مجھے اے نااُمیدی کیا قیامت ہے‘‘

کجریوال جی ’’ سنبھلنے دے مجھے اے نااُمیدی کیا قیامت ہے‘‘

غضنفر علی خان

دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے ابھی چند سال پہلے تاریخ بنائی تھی، دہلی جیسے شہر میں70 اسمبلی سیٹوں میں سے 67 پر فتح حاصل کی تھی ان کا عروج شروع ہوا تھا، لیکن صرف چند ماہ بعد جب دہلی بلدیہ کے چناؤ ہوئے تو ان کی عام آدمی پارٹی کو انتہائی کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاست میں عروج و زوال ایک طرح سے ’’ لازم و ملزوم ‘‘ ہے۔ وہ پارٹیاں جو اپنے عروج کے دور کا صحیح استعمال کرتی ہیں وہ عوام کی نظروں میں کئی برس تک قابل احترام رہتی ہیں لیکن کسی بھی پارٹی کے عروج کا گراف خواہ کتنا ہی اونچا ہو وہ کمزور کارکردگی اور ناقص حکمرانی سے دیکھتے ہی دیکھتے زوال میں بدل جاتی ہے، یہی کچھ عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہوا، اور بڑی تیزی سے پارٹی زوال آمادہ ہورہی ہے لیکن ابھی یہ زوال پورا نہیں ہوا، ابھی ابتداء ہوئی ہے۔ دہلی کے وہ عوام جنھوں نے ٹوٹ کر کجریوال کو ووٹ دیا تھا، دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی جیسی مضبوط پارٹی کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی جبکہ وزیر اعظم موودی کا جادو چل نہ سکا تھا۔ حالانکہ وہ پورے عروج پر تھی۔ عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو دھول چٹادی تھی۔ آج کیا ہوگیا کہ پارٹی ہر جگہ ہاررہی ہے، یہ پارٹی بنیادی طور پر دہلی تک ہی محدود تھی ۔ کجریوال نے بناء سوچے سمجھے اس کو آل انڈیا پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا، ابھی مارچ میں جن 5 ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہوئے تھے اس میں کجریوال نے چھلانگ لگائی۔ اُتر پردیش، پنجاب جیسی اہم ریاستوں میں پارٹی نے بھاری تعداد میں امیدوار کھڑے کئے تھے۔ پنجاب میں تو انتخابات سے پہلے ہر ٹی وی چینل کے اگزٹ پول میں عام آدمی پارٹی کو سب سے آگے کہا جاتا رہا۔ لیکن نتائج برعکس نکلے۔ ’عاپ‘ کو ہر جگہ شکست ہوئی تھی اس صدمہ سے ابھی پارٹی سنبھلی ہی نہ تھی کہ وہاں کی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ آن پڑے۔ عاپ کے تمام بلند بانگ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ حکمراں پارٹی ( دہلی کی حد تک ) ان چناؤ میں کم و بیش صاف ہوگئی۔ انتخابات کے نتائج آئے کہ پارٹی میں باہمی اختلافات، گروہ بندی کی خامی اُبھر کر سامنے آئی ہے۔ کجریوال کے طریقہ حکمرانی کو پارٹی کے لیڈر چیلنج کرنے لگے۔ بغاوت کے آثار اُبھرنے لگے لیکن پارٹی کے بانی ارویند کجریوال خواب غفلت سے نہ جاگے، انھیں دہلی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخی اور غیر معمولی جیت نے جیسے  بدمست کردیا ہے۔ ان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے نقائص کے لئے ہمیشہ بی جے پی کو مورد الزام ٹھہراتے رہے، بی جے پی پر ان کے اعتراضات پوری طرح غلط بھی نہیں ہیں پھر بھی سیاست وہ بھی اقتدار کی سیاست میں طنز و مزاح اور اعتراضات سے کام نہیں چلتا، اس میدان میں مقابلہ کیلئے سیاسی ہتھکنڈوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو عام آدمی پارٹی کے پاس نہیں ہیں، پارٹیاں صرف دوسروں پر تنقید کرکے اپنی کمزوریاں نہیں چھپا سکتیں۔ ہندوستانی سیاست میں اقتدار کے حصول کے لئے کوئی اخلاقی حدیں اب باقی نہیں رہیں۔ کوئی سیاست داں محض اپنی دیانتداری کا ڈھول پیٹ کر جیسا کہ خود وزیر اعظم مودی اور اروند کجریوال کررہے ہیں زیادہ دیر تک اقتدار پر نہیں رہ سکتا۔ وزیر اعظم مودی بھی ’’ اپنے منہ میاں میٹھو ‘‘ بنے رہتے ہیں اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب عوام اصل کارکردگی کی کسوٹی پر مودی سرکار کو پرکھے گی تو بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اسوقت تو مودی جی کا طوطی بول رہا ہے اور اس نقار خانہ میں کوئی دوسری آواز اس کی گونج اور اس کی بازگشت کی وجہ سے سنائی نہیں دے رہی ہے، کم و بیش یہی غلطی اروند کجریوال بھی کررہے ہیں۔ اپنی حکومت کے کام کی تشہیر میں وہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کو رکاوٹ بنارہے ہیں، ان کی اس یکسانیت نے عوام کو بیزار کردیا ہے، عوام یہ سننا نہیں چاہتے ہیں کہ کون کس کی حکمرانی اور کارکردگی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے وہ تو بس یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مقاصد اور ان کی چھوٹی چھوٹی تمنائیں پوری ہوں۔ صرف سیاستداں ہی ہیں جو ہر کام میں کسی اڑچن کا بہانہ بناتے ہیں۔کجریوال کو ابھی مہلت ہے اور ابھی وقت ہے کہ وہ پہلے پارٹی میں پیدا ہونے والی گروہ بندی کو روکیں، پارٹی میں پیدا شدہ اس احساس کو ختم کریں کہ وہ اور ان کی چنڈال چوکڑی ہی حکومت چلارہے ہیں۔ پارٹی میں آئے دن پھوٹ اور بغاوت کے واقعات ہورہے ہیں، پارٹی کے ایک اہم لیڈر کمار وشواس کی ناراضگی، ایک ایم ایل اے امانت اللہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی میں کچھ نہ کچھ نقص ہے۔ اگر کجریوال پارٹی کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوجائیں اور سنبھل جائیں تو اپنے پر پارٹی کے بعض لیڈروں کے عائد کردہ اس الزام کو ختم کردیں کہ وہ خود سیاست میں اپنی من مانی کرتے ہیں‘ جیسے دیگر الزامات کو اپنی کارکردگی سے ختم کرتے ہیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ عام آدمی پارٹی جن اغراض و مقاصد کے تحت بنائی گئی تھی ، جس کرپشن کے خلاف جنگ چھیڑی تھی اس میں وہ پوری طرح سے مخلص ہے، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح عام آدمی پارٹی نے بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ حتمی طور پر ابھی نہیں کہا جاسکتا کہ پارٹی اپنے قیام کے مقصد سے دور ہوگئی ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بادی النظر میں پارٹی اپنے بنیادی اور اساسی مقاصد سے دور ہورہی ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ پارٹی میں بغاوت کے آثار کو ختم کیا جائے، اس لئے کہ ملک بھر کے عوام اور خاص طور پر ریاست دہلی کے عوام نے پارٹی کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھاوہی عوام اس کو گمنامی اور بدنامی کے غار میں ڈھکیل سکتے ہیں۔ اگر پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اروند کجریوال اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر ہونی کو کیسے اور کون ٹال سکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک پارٹی اس پر عوام کے اعتماد کو کیوں طویل عرصہ تک برقرار نہ رکھ سکی، آخر کیا کمزوریاں ہیں جس کی وجہ سے پارٹی بکھرتی اور ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سیکولر ہونے پر کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا اس کی لیڈر شپ کی نیت پر بھی کوئی شبہ نہیں ہے لیکن طریقہ کار پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جلد بازی اور تجربہ کی کمی نے پارٹی کو آج ایسے حالات سے دوچار کردیا ہے کہ اس کے آئندہ وجود کے بارے میں ابھی سے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں جو یقینا کسی بھی اعتبارسے اچھی یا مثبت علامت نہیں ہے۔ پارٹی کا زوال ابھی شروع ہوا ہے اس کا تدارک فوری طور پر کیا جانا چاہیئے، جب دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کی تھی تو ملک کے سیکولر عوام نے اپنی خوشی اور پسندیدگی کا مظاہرہ کیا تھا، آج یہی حلقے پریشان ہیں کہ کیسے عام آدمی پارٹی منتشر ہوسکتی ہے اور کیوں یہ بات اتنی جلدی ہورہی ہے ، کیوں پارٹی نے اپنے عروج کو اپنی محنتوں سے پروان نہیں چڑھایا۔ یہ بات بھی سیاسی پنڈتوں کے ذہن میں آرہی ہے کہ آخر کون ہے جو موجودہ حالات کے لئے ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیا پارٹی پر سے کجریوال کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے، کیا پارٹی میں ان کا احترام ختم ہورہا ہے ، اور اگر ہورہا ہے تو خود کجریوال کس حد تک اس کے ذمہ دار ہیں؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی نہ کسی حد تک کجریوال اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں، انہیں بہت پہلے یہ اندازہ کرلینا چاہیئے تھا کہ اقتدار کبھی کسی کا ہمیشہ وفادار نہیں ہوتا۔ انھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ وقت اور زمانے کے تیور کس تیزی سے بدلتے ہیں بلکہ چھینکنے تک زمانہ بدل جاتا ہے۔ اگر پارٹی ان تلخ حقائق کا جائزہ لے اور پارٹی کے لیڈر کجریوال اور ان کے قریبی ساتھی یہ سمجھ لیں کہ جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت عوام ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں پارٹیوں کا عروج و زوال ہوتا ہے تو ابھی بھی عام آدمی پارٹی اپنی غلطیوں کا جائزہ لیکر انھیں درست کرسکتی ہے، نااُمیدی بڑھتی جارہی ہے، کب یہ نااُمیدی اور یاس ایک طوفان بن کر اُبھرے گی کوئی نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے عام آدمی پارٹی کو سنبھل جانا چاہیئے ورنہ جس تیزی سے اس کو عروج حاصل ہوا تھا اس سے زیادہ تیزی سے زوال بھی ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT