Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / کجریوال کے خلاف کرپشن الزامات

کجریوال کے خلاف کرپشن الزامات

انھیں پھر سے تازہ جفاؤں کی سوجھی
مری چشم نم جو ذرا مسکرائی

کجریوال کے خلاف کرپشن الزامات
دہلی کابینہ سے برطرف کئے گئے وزیر کپل مشرا نے پارٹی سربراہ اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کئے ہیں۔ کپل مشرا دہلی کے وزیر تھے جنہیں کل ہی کابینہ سے علیحدہ کرتے ہوئے دو نئے وزرا کو شامل کیا گیا تھا ۔ کپل مشرا پارٹی کے ناراض بانی لیڈر کمار وشواس کے حامی ہیں اور حالیہ وقتوں میں انہوں نے ہمیشہ کمار وشواس کی تائید کی تھی اور ان کے ساتھ رہے تھے لیکن اب انہوں نے کجریوال پر دو کروڑ روپئے غیر قانونی رقومات حاصل کرنے کا الزام عائد کردیا تو خود ان کے ساتھی سمجھے جانے والے کمار وشواس نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کجریوال نے رشوت لی ہو ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان الزامات کو کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ عام آدمی پارٹی کا بحران اب مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ کجریوال جتنا حالات کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں اتنا ہی پارٹی کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے ۔ وہ حالات سے نمٹنے میں ابھی تک تو کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔پارٹی میں انہیں پریشان کرنے کی کوششیںتیز ہوگئی ہیں۔ اب کپل مشرا کو یہ الزامات ایسے وقت میںیاد آئے ہیں جب انہیں کابینہ سے علیحدہ کردیا گیا ہے ۔ کل تک وہ دہلی کابینہ میں شامل تھے تو انہیں کجریوال کے خلاف الزامات عائد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔آج وہ کابینہ کا حصہ نہیں ہیں تو انہیں یہ الزامات یاد آگئے اور انہوں نے میڈیا سے رجوع ہوتے ہوئے الزام عائد کردیا کہ کجریوال نے دو کروڑ روپئے کی رشوت حاصل کی تھی ۔ کپل مشرا کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ کمار وشواس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں لیکن انہوں نے اب جو الزامات عائد کئے ہیں ان پر خود کمار وشواس اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کجریوال کے ایک وقت میں گاڈ فادر سمجھے جانے والے انا ہزارے نے اپنے رد عمل میں کہا کہ انہیں کجریوال کے خلاف کرپشن کے الزامات پر بہت افسوس ہوا ہے اور کسی رد عمل کے اظہار کیلئے ان کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔ انا ہزارے نے ان الزامات میں صداقت ہونے یا نہ ہونے کے تعلق سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم یہ ضرور کہا کہ کرپشن سے پاک سیاست کے لئے ان کا خواب ان حالات سے چکنا چور ضرور ہوا ہے ۔
عام آدمی پارٹی میں جو داخلی بحران چل رہا ہے وہ اس طرح کے الزامات کیلئے ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے ۔ پارٹی میں حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں اس طرح کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی اور گوا انتخابات میں انتہائی مایوس کن مظاہرہ کے بعد دہلی کے میونسپل انتخابات میں پارٹی کی شکست نے ایسے عناصر کے حوصلے بلند کردئے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے پارٹی کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرح سے پارٹی کو اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہوگیا ہے اور خود پارٹی میں شامل مفادات حاصلہ پارٹی کی امیج کو متاثر کرنے پر اتر آئے ہیں۔ جو لوگ ذاتی عزت و وقار کی خاطر پارٹی میں شامل ہوئے تھے وہی لوگ پارٹی کی عزت و وقار کو متاثر کرنے پر اتر آئے ہیں۔ ان میں کئی ایسے قائدین ہیں جن کے تعلق سے کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں رہی تھی کہ وہ پارٹی کے مفادات کو نقصان پہونچانے سے گریز نہیں کرینگے ۔ ان میں کئی ایسے قائدین ہیں جو پارٹی کے قیام کے وقت سے اس کے ساتھ ہیں ۔ وہ خود کو پارٹی کے بانی سمجھنے لگے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی چند افراد کی قائم کردہ نہیں ہے بلکہ یہ پارٹی ملک کے لاکھوں کروڑوں عوام کی تائید سے کرپشن کے خلاف جدوجہد کیلئے قائم ہوئی تھی ۔ اس بات کو پارٹی کے سینئر قائدین بھی ذہن نشین رکھنے کیلئے فی الحال تیار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے پارٹی کے کچھ وزرا اور دوسرے قائدین کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کئے جاتے رہے تھے اور یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا تھا کہ کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے قائدین کے تعلق سے کجریوال کا رویہ نرم رہا ہے ۔ اس پر خود کمار وشواس نے بھی کجریوال کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اب کرپشن کے جو الزامات کجریوال پر عائد ہوئے ہیں ان سے پارٹی کی داخلی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ کجریوال کے انتہائی کٹر مخالفین بھی شائد ان الزامات کی صداقت پر یقین نہ کریں لیکن سیاسی مخالفین کسی بھی موقع کو ضائع کرنا نہیں چاہتے اسی لئے اب اس تعلق سے مہم شروع کردی گئی ہے ۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اروند کجریوال پارٹی کی صفوں سے ایسے عناصر کو نکال باہر کرنے کیلئے کمر کس لیں جو ان کی اور پارٹی کی امیج متاثر کرنے پر اتر آئے ہیں اور وہ بھی صرف ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے ۔ کجریوال کیلئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے اور صورتحال قابو سے باہر ہوجائے ۔

TOPPOPULARRECENT