Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / کجریوال کے پرنسپال سیکریٹری سے سی بی آئی کی 9 گھنٹے پوچھ گچھ

کجریوال کے پرنسپال سیکریٹری سے سی بی آئی کی 9 گھنٹے پوچھ گچھ

اہم معلومات کا حصول ،تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ۔وزیر فینانس ارون جیٹلی سے مستعفی ہوجانے کانگریس اور عاپ کا مطالبہ
نئی دہلی۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کے دفتر کی عمارت پر دھاوے کے مسئلہ پر تنقیدوں کا شکار سی بی آئی نے آج اپنی کارروائیوں کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ دھاوؤں کے دوران ضبط شدہ تمام فائیل عدالت میں پیش کئے جائیں گے۔ اس دوران کجریوال کے پرنسپال سیکریٹری راجندر کمار اور دیگر دو ملزمین سے تحقیقاتی ایجنسی نے 9 گھنٹے تک مسلسل پوچھ گچھ جاری رکھی ۔ کجریوال نے گزشتہ روز اپنے دفتر پر سی بی آئی دھاوے کی سخت مذمت کی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ پرنسپال سیکریٹری راجندر کمار کے خلاف جاری تحقیقات سے غیرمتعلق فائیلوں کی بھی چھان بین کی گئی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کابینی فیصلوں اور ڈی ڈی سی اے فائیلوں کی تنقیح بھی کی گئی تھی۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی آج تنازعہ کا مرکز بنے رہے جہاں کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے انہیں نشانہ بناتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ جیٹلی پر 1999ء تا 2013ء دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ  کرکٹ اسوسی ایشن کے سربراہ کی حیثیت سے بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا الزام ہے۔ ارون جیٹلی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ وہ اس وقت تک جواب نہیں دیں گے جب تک ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔اس دوران دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن نے بھی ارون جیٹلی کے خلاف الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

کجریوال نے ان کارروائیوں کے بارے میں ٹوئٹر پر سلسلہ وار پیامات جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’سی بی آئی کے ذمہ دار، ڈی ڈی سی اے فائیلوں کا مطالعہ کررہے تھے۔ شاید وہ ان فائیلوں کو بھی ضبط کرلئے لیکن میڈیا سے میری بات چیت کے بعد انہوں نے میرے دفتر میں ان فائیلوں کو چھوڑ دیا۔ یہ بھی واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا انہوں نے اس کی نقل حاصل کرلی ہے۔ میرے دفتر سے ضبط شدہ فائیلوں کا پرنسپال سیکریٹری کے خلاف الزامات کی تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ لیکن وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کجریوال کے ان الزامات کو ’’بکواس‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ سی بی آئی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس نے 1989ء بیاچ کے آئی اے ایس افسر راجندر کمار کے تقریباً 28 لاکھ روپئے پر مشتمل بینک کھاتوں سے متعلق دستاویزات ضبط کئے ہیں۔ کمار پر سرکاری کنٹراکٹس کی فراہمی میں خانگی اداروں کی مدد کا الزام ہے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئی سی ایس آئی ایل کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اے کے دگل کے پاس سے 1.66 کروڑ روپئے مالیتی فکسڈ ڈپازٹ کی دستاویزات دستیاب ہوئی ہیں۔ سی بی آئی نے راجندر کمار سے آج دوسرے مرحلے کے تحت پوچھ گچھ کی۔ راجندر کمار آج صبح 9 بجکر 40 بجے سی بی آئی کے دفتر پہونچے اور 6 بجکر 45 بجے شب باہر نکلے ۔بعدازاں انہوں نے چیف منسٹر اروند کجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ذرائع نے بتایا کہ راجندر کمار اور ان کے سینئروکیل ایچ ایس پھولکا نے چیف منسٹر کو تازہ صورتحال سے واقف کرایا۔ سی بی آئی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ راجندر کمار وہ معلومات اب فراہم کررہے ہیں جو کل انہوں نے نہیں بتائی۔

TOPPOPULARRECENT