Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / کراچی میں انسانی حقوق کارکن کا اندھادھندفائرنگ میںقتل

کراچی میں انسانی حقوق کارکن کا اندھادھندفائرنگ میںقتل

تعصب کے خلاف سماجی ذرائع ابلاغ ٖپر مہم چلانے والے کے قتل کا انتہا پسندوں پر شبہ
کراچی ۔8مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک نامور پاکستانی انسانی حقوق کارکن خرم ذکی اور سماجی ذرائع ابلاغ پر مہم چلانے والے جو اپنے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سخت موقف کیلئے شہرت رکھتے تھے ایک نامعلوم حملہ آور کے ہاتھوں ملک کے معاشی دارالحکومت میں ہلاک کردیئے گئے ۔ 40سالہ ذکی پر کل رات چار مسلح حملہ آوروں نے جو دو موٹر سیکلوں پر سوار آئے تھے گولیوں کی بوچھاڑ کردی ‘ جب کہ وہ رات کا کھانا ایک رسٹورنٹ میں جو سیکٹر 11 نیوکراچی میںواقع ہے کھارہے تھے ۔ ایک صحافی راؤ خالد جو ذکی کے ساتھ تھا شدید زخمی ہوگیا ۔حملہ آوروں نے ذکی اور خالد پر فائرنگ کی ۔ ایک تماشائی بھی فائرنگ کی زد میںآگیا ۔ ایس ایس پی مقدس حیدر نے کہا کہ اس حملہ کی ذمہ داری کسی نے بھی ہنوز قبول نہیں کی ہے ۔ ذکی ایک سابق صحافی ہے جو فیس بک کے صفحہ پر ’’ لیٹ از بلڈ پاکستان‘‘ ( آیئے ہم پاکستان کی تعمیرکریں ) کی وجہ سے شہرت حاصل کرچکے تھے ‘ وہ بعد میں ایک ویب سائیٹ کے ایڈیٹر بن گئے جو انسانی حقوق کی جدوجہد  اور فراخدل مذہبی نظریات کی اشاعت کیلئے وقف تھی ۔

اس صفحہ کو حال ہی میں پاکستان مواصلاتی اتھاریٹی نے ملک کے ناظرین کیلئے بلاک کردیا تھا ۔ اس پر انتہا پسند ہر طریقہ سے تنقید کیا کرتے تھے ۔ اُسے اُس وقت شہرت حاصل ہوئی جب اُس نے لال مسجد کے عالم دین مولانا عبدالعزیز کے خلاف مہم چلائی کہ انہوں نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر اکسایا تھا ۔ وہ اب دوسرے مہم چلانے والوں میں دباؤ ڈال کر مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا ۔ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے تحقیقات کا حکم دیا تھا اور پولیس سے اندرون 48گھنٹے رپورٹ طلب کی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد ذکی کی نعش کے ساتھ چیف منسٹر کے مکان کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مسجد وحدت مسلمین نے اعلان کیا ہے کہ ایک احتجاجی مظاہرہ چیف منسٹر کی قیامگاہ کے روبرو کیا جائے گا ۔ مجلس وحدت مسلمین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ذکی صرف ایک ممتاز شہری سماجی کارکن ہی نہیں تھا بلکہ ایک مذہبی محقق تھا جس نے مختلف ٹی وی چینلس پر پروگرامس میں شرکت کی ہے ۔ مجلس وحدت المسلمین کے ترجمان نے کہا کہ اس کے خیال میں ممنوعہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اس بے رحمانہ قتل میں ملوث ہیں ۔ ذکی کے قتل کا واقعہ اسی دن ہوا ہے جب کہ کراچی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ سماجی کارکن پرویز  رحمن کے مئی 2013ء میں قتل کے مجرموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پروین جو پڑوسی قصبہ اونگی کے غریبوں کی ترقی کیلئے کام کیا کرتی تھی اسی علاقہ میں گھر واپسی کے دوران قتل کردی گئی تھی ۔ گذشتہ سال ستمبر میں ایک اور نمایاں سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی مہم چلانے والا سبین محمود بھی کراچی کے ڈیفنس کے علاقہ میں جب کہ وہ اپنے دفتر سے گھر واپس آرہی تھی قتل کردی گئی تھی ۔ اُس پر حملہ کرنے والے گرفتار ہوگئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT