Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کرایہ دار کے پاس کیش نہیں مکاندار کو کیش چاہئے

کرایہ دار کے پاس کیش نہیں مکاندار کو کیش چاہئے

حیدرآباد ۔ 3 ڈسمبر (ایجنسیز) نئے ماہ کے آغاز کے ساتھ شہر کے عوام کو نئی مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر میں کرایہ کے رومس یا اپارٹمنٹس میں رہنے والے عوام کے ایک بڑے طبقہ، جن میں زیادہ تر آفس میں کام کرنے والے، اسکلڈ اور ان اسکلڈ لیبرس اور طلبہ ہیں کو اب مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ یہ کرایہ ادا کرنے کا وقت ہے اور مکان دار نقد رقم میں کرایہ چاہتے ہیں۔ مکان داروں کی جانب سے جن میں زیادہ تر مکان دار کرایہ معاہدہ کو بھی مینٹین نہیں کرتے ہیں، جو وجوہات بتائی جاتی ہیں وہ بینک اکاؤنٹ نہ ہونے سے عمر سے متعلق مسائل تک کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر رضیہ (نام تبدیل) کا کیس لیجئے۔ بیگم پیٹ میں تین اپارٹمنٹس کی یہ اونر کرایہ کی آن لائن منتقلی کی قطعاً اجازت نہیں دیتی ہیں۔ بڑے کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے ان کے کرایہ داروں کیلئے مسائل پیدا ہونے کے باوجود اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے رضیہ ان کے کرایہ داروں سے نقد رقم میں کرایہ وصول کرنے پر مصر ہیں۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے تمام کرایہ دار مجھے کرایہ آن لائن ادا کریں تو میں کیسے یہ حساب رکھوں گی کہ کس نے ادا کیا ہے اور کس نے ادا  نہیں کیا۔ برہمن واڑی کی ایک اور مکان دار راجماں نے کہا کہ ’’میرا بینک اکاؤنٹ‘‘ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کرایہ داروں کو اقساط میں ادا کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT