Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / کرسی پر نماز

کرسی پر نماز

نماز اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے،سارے مسلمان اس فریضہ کی ادائیگی کے مکلف ہیں ، نمازمیں کچھ فرائض ،کچھ واجبات اورکچھ امورمستحبات وآداب سے متعلق ہیں،نمازمیں قیام فرض کے درجہ میں ہے ،قیام پر قدرت رکھنے والے اگربیٹھ کر نماز اداکریں تونمازادا نہیںہوگی،اسلئے ایسے افراد کیلئے فرض وواجب اورفجرکی دورکعت سنت مؤکدہ میں قیام کے ساتھ نمازاداکرنا فرض ہے۔دیگرنمازوں میں انکے لئے بیٹھ کر نمازاداکرنے کی گوکہ گنجائش ہے لیکن قیام پر قدرت کے باوجودقیام کے ساتھ نمازنہ پڑھنے کی وجہ ثواب میں کمی ہوگی یعنی آدھا ثواب ملے گا۔نمازمیں قیام کے فرض ہونے کی وجہ جودیرتک قیام نہیں کرسکتے ان کیلئے ضروری ہے کہ جتنی دیروہ قیام کر سکتے ہوں اتنی دیرضرورقیام کریںیعنی بقدرتکبیرتحریمہ جو قیام کر سکتے ہوں یا ایک آیت کی تلاوت کے بقدرکھڑے رہنے پر قادرہوںتوان کواتنی دیرنمازمیں قیام کرنا فرض ولازم ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی، باقی نمازعذرکی وجہ بیٹھ کر اداکرلیں تواسکی اجازت ہے۔البتہ جوبالکل قیام پر قادرنہ ہوں یا قیام کرنے سے ضررلاحق ہونے کا خطرہ ہو توان کو قیام ترک کرکے بیٹھ کر نمازپڑھنا جائزہے۔ (الفتاوی الہندیہ۱؍۱۳۶)قیام پر عدم قدرت کی وجہ انکا بیٹھنا قیام کے درجہ میں متصورہوگا،قیام پر قدرت نہ ہولیکن رکوع اورسجدہ کرنے پراگروہ قادرہوں توانکو قیام کی حدتک بیٹھنا اوررکوع وسجدہ پوری طرح اداکرتے ہوئے نماز اداکرنا ضروری ہے چونکہ رکوع وسجدہ پر قدرت ہوتو اسکا اداکرنا بھی فرض ہے اسلئے اس صورت میں اگروہ رکوع وسجدہ اشارہ سے اداکریں تو انکی نماز نہیں ہوگی۔کتب فقہ میں عذرکی صورت میں زمین پر بیٹھ کرنماز اداکرنے کی تفصیلات ملتی ہیں،بسااوقات زمین پر بیٹھنا بھی ممکن نہیں رہتا بایں وجہ اعذارکی وجہ کرسی پر بیٹھ کرنمازاداکرنے کو سواری پرعذرکی وجہ نمازاداکرنے کی اجازت پر قیاس کیا جاسکتاہے ۔زمین گیلی یا کیچڑوالی ہو یا زمین پر نمازپڑھنا دشوارہویا جانوراس قدر سرکش ہوکہ اس سے اترکر نمازپڑھی جائے تودوبارہ اس کا قابومیں آنااوراس پر بیٹھنا آسان نہ ہو،یا سواراس قدربیماروضعیف ہو کہ سواری سے اترکرنمازپڑھنے کی صورت میں اس پر دوبارہ سوارہونا ضعف وبیماری کی وجہ مشکل ہو،ایسے تمام اعذارمیں فقہاء کرام نے سواری پر نمازاداکرنے کے جوازکی رائے دی ہے۔بلاعذرسواری پر فرض نماز اداکی جائے تو نماز ادانہیں ہوگی ،زمین پرقیام ،رکوع اورسجودکے ساتھ نماز کا اداکرنا ضروری ہے۔(الجوہرۃ النیرۃ:۱؍۲۹۶،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق:۲؍۳۴۵)۔
ان احکام کے استنباط کی بنیاد فقہاء کرام نے اس حدیث پر رکھی ہے جو ترمذی ،مسند احمد،سنن بیہقی اوردارقطنی میں بیان کی گئی ہے’’سیدنا محمدرسول اللہ ﷺاورآپ ﷺ کے اصحاب ایک تنگ جگہ میں پہونچے ،جبکہ آپ ﷺ سواری پر تھے اورآسمان برس رہا تھا،نیچے کیچڑاورگیلاپن تھا ،نمازکا وقت آگیا تو آپ ﷺ نے اذان دلوائی ،سواری پر آگے بڑھے اورلوگوں کو اشارہ سے نماز پڑھائی ،سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے زیادہ پست کیا ‘‘الفاظ اورراویوں کے فرق کے ساتھ اس طرح کی احادیث امام ابی ابن شیبہ اورامام عبدالرزاق رحمہما اللہ نے بھی روایت کی ہیں۔
ہاں البتہ سواری پر نفل نمازکی اجازت شرعا ثابت ہے ،اسمیں سفربھی طے ہوتا رہتاہے اورنفل کی ادائیگی سے قرب حق کی نعمت نصیب ہوتی ہے،اس صورت میں نفل نماز کا پورا پورا ثواب ملے گا، اسی طرح نوافل زمین یا کرسی پر بلاکسی عذرکے بیٹھ کربھی اداکیے جاسکتے ہیں ،لیکن اس پرآدھا ثواب ملے گا کیونکہ قیام ،رکوع اورسجودکے ساتھ زمین پر نماز اداکرنے پر اسکو قدرت حاصل ہے ۔

جیسا کہ اوپر گزرچکا قیام پر جس کوبالکلیہ قدرت نہ ہو البتہ بیٹھ کر رکوع وسجدہ کرتے ہوئے نماز اداکرنے پر قادرہو تو رکوع اورسجدہ پر قدرت کی وجہ اسکا اہتمام کرنا فرض ہے ورنہ اسکی نماز نہیں ہوگی۔(الجوہرۃ النیرۃ:۱؍۳۱۱)قیام کے ساتھ رکوع وسجدہ پر جن کو قدرت نہ ہووہ اگربیٹھ کر اوررکوع وسجدہ اشارہ سے اداکرتے ہوئے نماز اداکریں تو درست ہے،نیزرکوع وسجدہ کیلئے جھکنے میں تکلیف کا احساس بڑھ جاتا ہو یا نا قابل برداشت تکلیف ہوتی ہو توانکو بھی رکوع وسجدہ اشارہ سے کرنے کی اجازت ہے۔(البحرالرائق :۲؍۱۲۲)بعض مساجد میںنشست گاہوں کے روبروسجدہ کرنے کی غرض سے میزبنائے جاتے ہیں ،مجبورومعذورافرادکیلئے اس طرح کے اہتمام کی شرعا ضرورت نہیں،تاہم ایسا اہتمام ہو تواس میزکا کرسی سے ایک یا دواینٹ سے زیادہ اونچا نہ ہونا چاہیئے۔(شامی:۲؍۹۹)نمازی اگرسرکو نہ جھکائے لیکن کوئی تختہ وغیرہ اسکی پیشانی کی طرف اٹھایا جائے اوروہ اس پر پیشانی ٹکائے تو درست نہیں،البتہ مصلی کے آگے تکیہ یا دواینٹ یا اس سے کم کے بقدرکوئی تختہ وغیرہ ہو اوراس پر وہ سجدہ کرے تو شرعا درست ہے۔(الہندیہ:۱؍۱۳۶)اس تکلف کے بغیرایسے مجبورومعذورمصلی اشارہ سے رکوع وسجدہ کرکے نماز اداکرسکتے ہیں۔ الغرض شدید اعذارجیسے موٹاپایا ایسی بیماریاں جو قیام یا رکو ع وسجدہ کرنے میں مانع ہوں انکے لئے شریعت نے یسروآسانی مہیا کی ہے ۔
البتہ موجودہ دورکی نوایجادسواریاں ریل،بس اورہوائی جہازوغیرہ میں نوافل تو حسب سہولت اداکئے جا سکتے ہیں لیکن فرض نماز اداکرنا ہواورسواری اپنے قابومیں ہوتوسواری سے اترکرحسب شرائط نماز اداکی جانی چاہئے ،لیکن سواری اپنی قابو میں نہ ہوانتظارکی صورت میں نماز کا وقت گزرجانے کا خطرہ ہو اور شرائط نمازکی پابندی کے ساتھ نمازاداکرنا ممکن ہوتواسکا لحاظ ضروری ہے ورنہ جیسے ممکن ہوویسے ہی نمازاداکرلی جائے ۔سفرسے فراغت کے بعدشرائط نماز کی تکمیل کے بغیراداکی جانے والی نمازوں کا اعادہ اولیٰ ہے۔(شامی:۲؍۴۹۰)
عذرشدید کی وجہ کرسی پر نمازاداکرنے والوں کو چاہئے کہ کرسی کے پچھلے پیرصف کی لکیرپر رکھیں تاکہ صف سیدھی رہے ، دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگو ں سے آگے پیچھے نہ ہوجائیں ،الغرض قیام کی صورت میں کرسی کے پیرسیدھے بائیں نمازیوں کے قدموں کے محاذات میں ہوں ،بیٹھنے کی صورت میں ظاہر ہے کرسی پر نمازاداکرنے والے اوردیگرنمازی یکساں حالت میں ہونگے۔کرسیاں صف کے درمیان آجائیں تب بھی کوئی حرج نہیں تاہم افضل ہے کہ صف کے کنارے رکھی جائیں بشرطیکہ صف کا تسلسل برقراررہے،نمازشروع ہوجائے اورمصلیوں سے صف نا مکمل ہوتوصف میں جگہ باقی رہتے ہوئے صف کے کنارے ،کرسیوں پر نمازاداکرنا خلا رہ جانے کی وجہ درست نہیں ہوگا ۔(شامی:۱؍۵۶۸)اسلئے جہاں تک صف بن گئی ہووہیں کرسی رکھ کر نمازاداکی جائے۔

عام طورپر کرسی پر نماز پڑھنے والوں کو دیکھا گیا ہے کہ انکے ہاتھ بوقت رکوع تو گھٹنوں کے اوپر رہتے ہیں لیکن جب سجدہ کرنا ہوتا ہے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں سے باہر نکال کر معلق رکھتے ہیں جوشرعا درست نہیں، اسلئے اس پر نظررکھنی چاہئے اورکوشش کرنی چاہئے کہ رکوع کے لئے سرکو جھکانے کے ذراکم اشارہ کے ساتھ حالت سجدہ کو رکوع کی نسبت سرکو زیادہ جھکاتے ہوئے سجدہ کریں، اوربحالت رکوع وسجدہ دونوں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رانوں پر رہیں۔
آج کل کرسی پر بیٹھ کر نمازاداکرنے کا رواج عام ہوگیاہے،اسکی وجہ مساجد میں بکثرت کرسیوں کا انتظام کردیا گیاہے، مسئلہ کی اہمیت ونزاکت سے عدم واقفیت کی وجہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بسااوقات وہ نمازی جوہلکا پھلکا اورمعمولی درجہ کا دردمحسوس کرتے ہیں وہ بھی بجائے قیام کے کرسی پر بیٹھ کر نماز اداکرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں ۔
الغرض نمازاداکرنے والوں کو اچھی طرح سے اپنا اوراپنی صحت کا جائزہ لینا چاہئے اورشدیدضرورت ہی کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نمازاداکی جانی چاہئے ۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ توفیق خیرنصیب فرمائے ، نمازکے فرائض ،واجبات،سنن ومستحبات اورآداب کی رعایت رکھتے ہوئے پورے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز اداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔

TOPPOPULARRECENT