Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کرشنا اور گوداوری کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کے امکان سے حکومت تلنگانہ کو سنٹرل واٹر کمیشن کی چوکسی

کرشنا اور گوداوری کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کے امکان سے حکومت تلنگانہ کو سنٹرل واٹر کمیشن کی چوکسی

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( ایجنسیز ) : کرشنا اور گوداوری کے آبگیر علاقوں میں شدید بارش پر سنٹرل واٹر کمیشن نے ریاستی حکومت کو ان دو ندیوں کے نشیبی علاقوں میں امکانی سیلاب کے بارے میں چوکس کیا ہے ۔ سی ڈبلیو سی کے فلڈ فور کاسٹ مانیٹرنگ ڈائرکٹوریٹ کی چوکسی سے کچھ اچھا بھی ہوا ہے کیوں کہ ریاست میں گذشتہ دو سال سے شدید خشک سالی کی صورتحال تھی ۔ ان دو ندیوں پر ذخائر آب میں بالخصوص کرشنا ندی میں آئندہ ایک دو دن میں پانی کے اچھے بہاؤ کا امکان ہے ۔ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے مہاراشٹرا میں گوداوری اور کرشنا کے آبگیر علاقوں میں مزید دو دن میں شدید بارش کی پیش قیاسی جاری کی گئی ہے ۔ دو تلگو ریاستوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کرشنا ندی پر تمام ڈیمس لبریز ہوگئے ہیں اور سری سیلم میں توقع ہے کہ چار تا سات دنوں میں پانی کا اچھا بہاؤ ہوگا ۔ کرشنا اور گوداوری ندیوں میں اوپری ریاستوں میں شدید بارش کے باعث آئندہ دو ، تین دن میں اچھا پانی آنے کی توقع ہے ۔ ایڈوائزری کے مطابق مہاراشٹرا کے اضلاع ناسک ، احمد نگر اور اورنگ آباد میں گوداوری ندی میں پانی کی سطح میں اضافہ کا امکان ہے اور کرشنا ندی اور اس کی ذیلی ندیوں میں بھی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اس طرح کی شدید بارش کی وجہ مہاراشٹرا ، کرناٹک ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سری سیلم ڈیم تک کرشنا ندی میں سطح آب میں تیزی کے ساتھ اضافہ کا امکان ہے ۔ سی ڈبلیو سی نے کہا کہ چونکہ تمام اپ اسٹریم ڈیمس لبریز ہوگئے ہیں ۔ اس لیے زیادہ تر ڈیمس سے امکان ہے کہ پانی چھوڑا جائے گا ۔ تمام ذخائر آب پر جو لبریز ہوچکے ہیں جیسے المٹی ڈیم اور نارائن پور ڈیم وجئے پورہ ڈسٹرکٹ کرناٹک میں اور ریاست تلنگانہ میں محبوب نگر ڈسٹرکٹ میں پریہ درشنی جرالہ پراجکٹ پر سخت نگرانی رکھنا ہوگا ۔ سی ڈبلیو سی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سری سیلم ڈیم میں آئندہ چار تا سات دنوں میں پانی کا اچھا بہاؤ ہوگا ۔ تمام پراجکٹ اتھارٹیز کو سخت نگرانی اور چوکسی اختیار کرنا چاہئے اور جاریہ مانسون کے دوران زائد پانی کو چھوڑنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا چاہئے ۔ اس دوران ریاستی حکومت کے عہدیداروں نے کہا کہ ذخائر آب میں بھاری مقدار میں پانی آنے سے ریاست میں سیلاب جیسی صورتحال نہیں ہوگی کیوں کہ سری سیلم اور ناگر جنا ساگر دونوں پراجکٹس میں پانی کی سطح کم ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT