Thursday , May 25 2017
Home / اداریہ / کرناٹک میں بی جے پی کے خوابوںکو دھکہ

کرناٹک میں بی جے پی کے خوابوںکو دھکہ

اب ہیں طوفانِ غمِ دل کے مقامات نئے
کبھی دریا میں کبھی دامنِ ساحل میں رہے
کرناٹک میں بی جے پی کے خوابوںکو دھکہ
کرناٹک میں بی جے پی کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی آئندہ حکمرانی کے خوابوں کو چکناچور کردے گا۔ پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندی کی وجہ سے ریاستی بی جے پی یونٹ کے صدر سابق چیف منسٹر یدی یورپا کو بی جے پی مرکزی قیادت سے ہٹادیا۔ ان کے حریف کے ایس ایشورپا بھی پارٹی ذمہ داری سے دور کردیئے گئے۔ کرناٹک بی جے پی میں یہ سب کچھ مرکز میں زعم کے ساتھ حکومت کرنے والی بی جے پی کیلئے بہت ہی بری خبر ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کو آئندہ سال منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ناکام بنانے کی فکر ناتواں میں مصروف بی جے پی کو اس کے ہی ریاستی قائدین نے بے سمتی کا شکار بنادیا ہے۔ تبدیل شدہ حالات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرناٹک کی بی جے پی کے ساتھ وہ ہورہا ہے جو زیادتی کا شکار کسی مظلوم خاتون کی اس کے ملزم کے ساتھ ہی زبردستی شادی کردی جاتی ہے۔ ایک طاقتور پارٹی اور قومی قیادت کی موجودگی میں ریاستی سطح پر بی جے پی کو شدید مایوس کن صورتحال کا سامنا ہے۔ بی جے پی کی جانب جھکاؤ بنائے رکھنے والے کرناٹک کانگریس کے سینئر قائدین کیلئے بھی یہ تبدیلی ارمانوں پر پانی پھیر دینے والا واقعہ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ حال ہی میںکرناٹک کانگریس کے بزرگ قائدین نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں اپنی بقاء تلاش کرنے کی مساعی شروع کی تھی۔ سابق چیف منسٹر ایس ایم کرشنا اور سابق مرکزی وزیر ایم وی راج شیکھرن اور اب سابق وزیر ریلوے جعفر شریف نے بی جے پی کی جانب اپنے قدم اٹھانے کا اشارہ دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی زبردست ستائش کی تھی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کی حمایت بھی کی جارہی تھی۔ ایس ایم کرشنا نے گذشتہ ہفتہ ہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ان کے بعد راج شیکھرن اور جعفر شریف نے بھی مودی کو مکتوب لکھ کر ان کی موافق غریب پالیسیوں کی ستائش کی تھی۔ بی جے پی قیادت کے ساتھ اپنے خیرسگالی رشتہ کو مضبوط بنانے کی کوشش کے دوران کرناٹک بی جے پی میں سینئر قائدین کو ہٹادینے کا فیصلہ ہونا ہے تو بظاہر یہ تبدیلی ان کانگریس سینئر قائدین کی بی جے پی کی جانب جھکاؤ کی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔ بی جے پی نے سوچا ہوگا کہ پارٹی کو کانگریس کے ان سینئر بزرگ تجربہ کار قائدین کی حمایت مل رہی ہے تو پارٹی کے اندر پھوٹ کا شکار یا گروپ بندی کرنے والوں کو ہٹادیا جائے۔ یدی یورپا کا بی جے پی سے کبھی ہاں کبھی نا کا معاملہ رہتا ہے۔ اس سے قبل بھی ان کی قیادت میں بی جے پی نے حکومت بنائی اور اختلافات کا شکار ہوئی تھی۔ کرناٹک کے حالیہ ضمنی انتخابات بی جے پی کو شکست بھی ہوتی ہے۔ پارٹی کی ریاستی قیادت کے خلاف گروہ بندیوں کی وجہ سے بی جے پی کیڈرس میں ناراضگی پیدا ہونا پارٹی کی مرکزی قیادت کیلئے تشوش کی ہی بات تھی۔ اس لئے پارٹی نے اگر یدی یورپا سمیت چار قائدین کو ہٹادیا ہے تو ان کی جگہ کسی اور پارٹی قائد کو دی جائے گی یا پھر کانگریس سے نکل کر بی جے پی میں شامل ہونے والے بااثر قائدین کو یہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ جنوبی ہند میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے ایک مدت سے کوشاں بی جے پی کیلئے کرناٹک میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی بہرصورت فال نیک نہیں ہے۔ جنوبی ہند میں کرناٹک ہی واحد ریاست تھی جہاں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا تھا لیکن 2008 سے 2013ء کے درمیان حکومت کرنے والی بی جے پی کو اختلافات اور ناراضگیوں کی وجہ سے 3 چیف منسٹرس تبدیل کرنے پڑے تھے۔ بی جے پی کے اندر گروہ بندی اور رشوت ستانی کی بری خبروں نے ہی کانگریس کو بی جے پی سے اقتدار چھین لینے کا موقع دیا تھا۔ اب پھر ایک بار کانگریس خود کو موقع سے استفادہ کرنے کیلئے تیار کرلے گی۔ بی جے پی داخلی طور پر انتشار کا شکار ہے تو مرکزی بی جے پی قیادت اس انتشار کو کس طرح دور کرسکے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔ بی جے پی اگر یہ سوچ کر کرناٹک پارٹی قیادت کو نظرانداز کررہی ہے کہ اسے کانگریس کے بااثر قائدین کا ساتھ مل رہا ہے تو یہ اس کی ایک اور بھول ہوگی کیونکہ جن کانگریس کے سابق قائدین پر تکیہ کرکے وہ بی جے پی کے داخلی معاملوں کو سلجھانے کے بجائے الجھن سے دوچار کررہی ہے اس کیلئے یہ چالاکی کچھ کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ لہٰذا بی جے پی کرناٹک کو گروہ بندی پر قابو پاتے ہوئے ناراضگیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ بی ایس یدی یورپا ہو یا ایشورپا کرناٹک میں اپنے طبقات کی نمائندگی کرنے والے طاقتور لیڈر سمجھے جاتے ہیں۔ لنگایت طبقہ کی نمائندگی کرنے والے یدی یورپا اور کروبا پسماندہ طبقہ کے لیڈر ایشورپا کے باہمی اختلافات کو پارٹی میں پھوٹ کا مؤجب نہیں بننے دیا جائے۔ یدی یورپا پر آمریت پسندی کا الزام ہے تو پارٹی قیادت کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت تھی لیکن یہ اختلافات پارٹی کے طویل مدتی ورکرس اور وفاداروں کیلئے شدید دھکہ ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT