Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / کرناٹک میں سرکاری ملازمین کی ایک روزہ ہڑتال

کرناٹک میں سرکاری ملازمین کی ایک روزہ ہڑتال

حکومت کی وارننگ نظر انداز ، تعلیمی ادارے اور دفاتر سنسان
بنگلور ۔ 2 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام): کرناٹک میں آج سرکاری نظم و نسق ( مشنری ) عملاً مفلوج ہوگئی جب کہ 5 لاکھ سے زائد ملازمین نے ڈسپلن شکنی کارروائی کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے مماثل تنخواہوں کی ادائیگی کے مطالبہ پر ہڑتال کردی ۔ بیشتر سرکاری دفاتر بشمول ودھانا سودھا ، ریاستی سکریٹریٹ اور وکاس سودھا کے ملازمین کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کے باعث سنسان نظر آرہے تھے ۔ تاہم چند ایک ملازمین جس میں اکثریت کنٹراکٹ ملازمین کی تھی ڈیوٹی پر حاضر تھے۔ علاوہ ازیں سرکاری کالجوں اور اسکولوں کی کارکردگی بھی متاثر رہی کیوں کہ بیشتر اساتذہ اور اسٹاف کے ارکان غائب تھے ۔ جب کہ ڈیوٹی پر آنے والوں کو واپس بھیج دیا گیا ۔ ریاست بھر میں سرکاری دفاتر کا کام کاج درہم برہم ہوگیا ۔ اسٹیٹ گورنمنٹ ایمپلائز اسوسی ایشن کے صدر منجے گوڑا نے بتایا کہ ہڑتال کی نوٹس دئیے جانے کے باوجود حکومت نے بات چیت کے لیے طلب نہیں کیا ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر غور و خوض نہیں کرے گی تو بہت جلد احتجاج میں شدت پیدا کردی جائے گی ۔ ریاستی حکومت نے کل ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو خبردار کیا تھا کہ ایک روزہ ہڑتال میں حصہ لینے پر سخت کارروائی کی جائے گی ۔ مختلف قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے سرکل میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی ہڑتال میں 6 ماہ کی سزائے قید اور 500 روپئے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔ مذکورہ سرکلر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یونین لیڈر منجے گوڑا نے کہا کہ حکومت کو یہ اختیار ہے کہ ملازمین کی برطرفی یا گرفتاری کی دھمکی دے سکتی ہے لیکن کوئی ملازم خوفزدہ نہیں ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT