Sunday , August 20 2017
Home / سیاسیات / کرناٹک میں پولیس ملازمین کا احتجاج ناکام

کرناٹک میں پولیس ملازمین کا احتجاج ناکام

جائز مطالبات کی یکسوئی کیلئے چیف منسٹر کا تیقن
بنگلورو 4 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کرناٹک نے سخت کارروائی کا انتباہ اور مطالبات کی یکسوئی کا تیقن دیتے ہوئے آج پولیس کانسٹبلوں کے اجتماعی رخصت کے احتجاج کو ناکام بنادیا۔ قبل ازیں پولیس عملہ نے سینئر عہدیداروں کی ہراسانی اور ناکافی تنخواہوں اور نامناسب چھٹیوں کے خلاف آج ریاست بھر میں رخصت احتجاجی حاصل کرلینے کی دھمکی دی ہے جس کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طور پر مرکزی فورسیس بشمول سی آر پی ایف کو طلب کرلیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاست بھر میں بالخصوص شہر بنگلورو میں پولیس عملہ کی حاضری حسب معمول رہی۔ سینئر پولیس عہدیدار اور علاقائی انچارج حکام صورتحال پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں تاکہ اسٹاف کے احتجاج سے فی الفور نمٹا جاسکے۔ کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور انسپکٹر جنرل پولیس مسٹر اوم پرکاش نے بتایا کہ پولیس کی ’کارگذاری‘ معمول کے مطابق ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تمام اضلاع اور کمشنریٹس میں پولیس نے ڈیوٹی انجام دی۔ کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔ دریں اثناء میسور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر سدارامیا نے احتجاج سے گریز اور ڈسپلن برقرار رکھنے پر پولیس سے اظہار تشکر کیا۔ وزیرداخلہ جی پرمیشور نے بھی پولیس عملہ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے بتایا کہ آج صد فیصد پولیس کی حاضری رہی۔ انھوں نے کہاکہ پولیس ملازمین کے بعض مطالبات جائز اور منصفانہ ہے اور حکومت جائزہ لینے کے بعد یکسوئی کرے گی لیکن ہمارا یہ احساس ہے کہ مطالبات پیش کرنے کے لئے اختیار کردہ طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔ پولیس ملازمین کے ارکان خاندان کو احتجاج سے باز رکھنے کے لئے پولیس کالونیوں اور کوارٹرس کے قریب سکیورٹی فورس متعین کردی گئی تھی اور حکومت نے خبردار کیا تھا کہ احتجاج میں حصہ لینے پر کوارٹرس سے تخلیہ کروادیا جائے گا۔ احتجاج کے پیش نظر حکومت نے پڑوسی ریاستوں کی پولیس کے برابر تنخواہوں میں اضافہ اور کام کا بوجھ کم کرنے کے لئے کانسٹبلوں کے تقرر کا تیقن دیا ہے۔ تاہم بعض تنظیموں نے مختلف مقامات پر پولیس کے احتجاج کی تائید میں مظاہرے کئے ہیں۔ پولیس احتجاج کے محرک اکھیلا کرناٹک پولیس مہا سنگھ کے صدر وی ششی دھر کو پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اُن کی اہلیہ پورنیما ششی دھر کو بھی حراست میں لے لیا گیا جنھوں نے بعض تنظیموں کے تعاون سے احتجاجی مظاہرہ کی کوشش کی تھی۔ جبکہ حکومت نے احتجاج کی دھمکی سے نمٹنے کے لئے قانون برقراری لازمی خدمات (اسیما) کے تحت پولیس خدمات پر پابندی عائد کردی تھی۔

TOPPOPULARRECENT