Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / کرناٹک ‘ یدیورپا کی واپسی

کرناٹک ‘ یدیورپا کی واپسی

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
کرناٹک ‘ یدیورپا کی واپسی
بی جے پی ملک کی تقریبا ہر ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے ۔ ہر ایسی کوشش کی جا رہی ہے جس سے پارٹی کو تھوڑی سے بھی امید ہو کہ اسے کامیابی مل سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں جان توڑ کوششیں کی گئیں۔ وزیر اعظم تقریبا روزآنہ کی اساس پر دہلی سے بہار کا سفر کرتے ہوئے انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس سے قبل دہلی میں بھی پارٹی نے نہ صرف وزیر اعظم کو بلکہ تقریبا تمام مرکزی وزرا اور تمام مرکزی قائدین کو انتخابی مہم میں حصہ لینے پر مجبور کیا لیکن اس کا بھی نتیجہ صفر ہی رہا ۔ یہاں پارٹی کو بدترین ہزیمت برداشت کرنی پڑی تھی ۔ یہی حال بہار میں بھی ہوا تھا ۔ اب ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں بھی بی جے پی ہر سیاسی چال چلتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پانچ ریاستوں کے بعد جن ریاستوں میں جلد انتخابات ہونے والے ہیں ان میں کرناٹک بھی شامل ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی اقتدار پر رہ چکی ہے اور وہاں مخلوط حکومت بنائی گئی تھی ۔ پارٹی وہاں اب اپنے بل پر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پارٹی سے بغاوت کرکے علیحدگی اختیار کرچکے یدیورپا کو پارٹی کی صفوں میں دوبارہ شامل کرلیا گیا تھا ۔ 2013 میں یدیورپا نے پارٹی میں واپسی کی اور نریندر مودی کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد سے یدیورپا ریاست میں بی جے پی کی صدارت حاصل کرنے کیلئے بے چین تھے ۔ وہ ریاست کے چیف منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ پارٹی کو بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ امید ہوچلی ہے کہ یدیورپا ہی اسے کرناٹک میں اقتدار دلا سکتے ہیں۔ اسی لئے کئی ماہ کی ٹال مٹول کے بعد بالآخر انہیں کرناٹک بی جے پی کی صدارت سونپ دی گئی ہے ۔ اس سے پارٹی کی اقتدار کیلئے حرص و ہوس کا پتہ چلتا ہے ۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کے دعوی کرنے والی پارٹی اس معاملہ میں دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے ۔ یدیورپا کے خلاف کرپشن کے مقدمات تھے ۔ حالانکہ انہیں عدالتوں میں خارج کردیا گیا ہے لیکن ان کی شبیہہ متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ بعض مقدمات میں انہیں بری تو کیا گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں ایک مقدمہ میں 21 دن جیل کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ یہ سزا کاٹ بھی چکے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی نے انہیں ریاستی صدر نامزد کردیا ۔
پارٹی شائد یہ بات فراموش کرچکی ہے کہ یدیورپا کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ہی اس نے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفی دینے کیلئے مجبور کیا تھا ۔ اسی وجہ سے یدیورپا بھی پارٹی سے ناراض ہو گئے تھے اور انہوں نے علیحدگی اختیار کرکے الگ جماعت قائم کرلی تھی ۔ وہ سزا کاٹ چکے ہیں اور دوسرے مقدمات میں بری ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کی شبیہہ سزا کاٹنے کی وجہ سے جو متاثر ہوئی ہے اس کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا اور عوام کے ذہنوں میں ان کے تعلق سے جو تصورات تھے وہ بھی متاثر ہوگئے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے مقصد سے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ کرپشن اور بدعنوانیوں سے پاک سیاست کا جو درس ہے وہ دوسروں کیلئے ہے اور خود پارٹی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ جاریہ کیرالا اسمبلی انتخابات کیلئے بھی ایسا ہی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ وہاں بھی سابق ہندوستانی کرکٹر ایس سری سانت کو پارٹی میں نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ انہیں اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیلئے امیدوار بھی بنایا گیا ہے ۔ سری سانت کو آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ مقدمہ میں ماخوذ کیا گیا تھا ۔ اس کے باوجود انہیں پارٹی نے اپنی صفوںم یں شامل کیا ہے اور انہیں اپنا امیدوار بھی نامزد کیا ہے ۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ پارٹی کیلئے اصول اور اقدار کوئی معنی نہیں رکھتے اگر یہ سب کچھ اقتدار حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی طئے نہیں ہے کہ ان کوششوں سے پارٹی کو اقتدار یقینی طور پر مل ہی جائیگا اس کے باوجود اقتدار کیلئے اس کی حرص کا پتہ چلتا ہے اور اس کے دوہرے معیارات آشکار ہوجاتے ہیں۔
کرناٹک کی سیاست میں یدیورپا کا ایک مقام رہا ہے اور اب بھی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کے خلاف الزامات کی جو نوعیت رہی ہے ان کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کو انہیں قیادت سونپنے سے گریز کرنا چاہئے تھا ۔ وہ عدالتوں سے برات حاصل کرچکے ہیں لیکن عوام کے ذہنوں میں ان کی جو شبیہہ متاثر ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اور بی جے پی کو اصول اور اقدار کی سیاست کے اپنے نعرہ کی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں یہ ذمہ داری سونپنے سے گریز ہی کرنا چاہئے تھا ۔ اقتدار کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا سبھی سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ہے لیکن اس کیلئے اقدار اور اصولوں سے سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ بی جے پی اس کا درس دوسروں کو ضرور دیتی ہے لیکن اپنے عزائم اور منصوبوں کی تکمیل کیلئے وہ خود اس پر عمل کرنے سے گریز کرتی ہے ۔ کرناٹک کے عوام کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اس معاملہ میں پارٹی کے دوہرے معیارات ظاہر ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT