Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / کرنسی بحران ، عوامی ناراضگی سے بچنے دونوں تلگو ریاستوں کی محتاط حکمت عملی

کرنسی بحران ، عوامی ناراضگی سے بچنے دونوں تلگو ریاستوں کی محتاط حکمت عملی

مرکزی حکومت کی کھل کر تائید کرنے کے بجائے ملازمین اور عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے مرکز سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد۔/3ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے فیصلہ کے 25دن گذرنے کے باوجود عوامی مشکلات میں کمی نہ ہونے سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتیں فیصلے کے بارے میں اپنے موقف کو لیکر اُلجھن کا شکار ہیں۔ گذشتہ دنوں تنخواہوں کی عدم وصولی کے باعث عوام میں پیدا ہوئی شدید ناراضگی کو دیکھتے ہوئے دونوں ریاستوں کی برسر اقتدار پارٹیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسئلہ پر مرکز کی کھل کر تائید سے گریز کیا جائے تاکہ عوامی ناراضگی سے بچا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے قریبی رفقاء سے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور خاص طور پر نومبر کی تنخواہ نہ ملنے کے باعث ملازمین میں پائی جانے والی ناراضگی کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے مشیروں نے انہیں صلاح دی ہے کہ جس طرح کیش لیس اکانومی کے مرکز کے اقدامات کی تلنگانہ حکومت نے تائید کی تھی وہ عوامی ناراضگی میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے لہذا حکومت کو اس سلسلہ میں احتیاط سے قدم اٹھانے چاہیئے۔ مشیروں کا یہ احساس تھا کہ اگر مرکز کی جانب سے مقررہ 50دن میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو عوامی ناراضگی ریاستی حکومتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے کیونکہ ریاستی حکومتوں نے مرکز کے فیصلے کی نہ صرف تائید کی بلکہ مشکلات کو کم کرنے میں خاطر خواہ رول ادا نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹرنے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ مرکزی حکومت کے اقدامات کی تائید کرنے کے بجائے عوامی مشکلات کو کم کرنے کیلئے مرکز سے نمائندگی کی جائے۔ چیف منسٹر کو واقف کرایا گیا ہے کہ بینکوں کیاش نہ ہونے کے سبب سرکاری ملازمین بھی نومبر کی تنخواہ کی پہلی قسط کے طور پر 10 ہزار روپئے حاصل کرنے میں ناکام ہوئے۔ سرکاری ملازمین  گذشتہ دو دن سے بینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور انہیں مایوسی کا سامنا ہے جبکہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بینکوں میں ملازمین اور ریٹائرڈ ایمپلائز کیلئے علحدہ کاؤنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ بینکوں نے اسٹاف کی کمی کے سبب علحدہ کاؤنٹر کے قیام سے معذوری کا اظہار کیا اور ملازمین کو بھی دیگر افراد کے ساتھ طویل قطاروں میں ٹھہر کر انتظار کی زحمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ اب جبکہ ہفتہ کو بینکوں نے محدود وقت کیلئے کام کیا اور اتوار کو چھٹی رہے گی لہذا ملازمین میں مزید ناراضگی پیدا ہوچکی ہے۔ ان حالات میں ٹی آر ایس حکومت کرنسی کی تنسیخ کے مسئلہ پر مرکز کی کھل کر تائید کرنے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال آندھرا پردیش میں بھی ہے جہاں چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو مرکزی حکومت نے چیف منسٹرس کے پیانل کا کنوینر مقرر کیا ہے جو کیاش لیس اکانومی کے لئے حکومت کو اقدامات تجویز کرے گی۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کے چیف منسٹرس اگرچہ اس مسئلہ پر خاموش ہیں تاہم تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے مرکز کے فیصلے کی نہ صرف تائید کی بلکہ ان کے اقدامات کے ساتھ چلنے لگے۔ اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش کے وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو نے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو مشورہ دیا کہ وہ کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ کا کریڈٹ لینے سے گریز کریں کیونکہ اس فیصلہ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کے فوری بعد کہا تھا کہ انہوں نے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ کرنے کی صلاح دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر فینانس اور دیگر وزراء نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ اس فیصلہ سے عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی عدم یکسوئی کی صورت میں مرکز کی تائید کرنے والی ریاستوں کو آئندہ عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذا بہتر یہی ہوگا کہ مرکز کے فیصلے پر محتاط رویہ اختیار کیا جائے۔ مرکز نے کرنسی کے بعد گولڈ کے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے اس سے خواتین میں پائی جانے والی ناراضگی سے بھی دونوں ریاستوں کی حکومتیں اُلجھن میں مبتلاء ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں حکومتیں اب کرنسی نوٹ بحران پر مرکز کے حق میں کھل کر اظہار خیال سے گریز کریں گی۔دونوں حکومتوں نے اطلاعات کے مطابق فیصلہ کیا ہے کہ بینکوں اور اے ٹی ایمس پر کیاش کی دستیابی کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی جائے اور عوام میں اس نمائندگی کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو تاکہ یہ پیام پہنچے کہ حکومت عوام کی تکالیف کو دور کرنے فکر مند ہے۔

TOPPOPULARRECENT