Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی بحران : بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کی چاندی

کرنسی بحران : بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کی چاندی

بازاروں میں سناٹا ، لیکن کالا دھن کو سفید کرنے کا بازار گرم ، سیاسی قائدین اور تاجرین کی بینک عہدیداروں سے سودے بازی کی اطلاع !

حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) بڑی نوٹوں کی منسوخی کے بعد عوام پریشان ہیں، بازاروں میں سناٹا ہے اور کاروبار ٹھپ ہے لیکن سیاسی قائدین اور درمیانی افراد کی چاندی ہی چاندی ہے۔ ٹھگ لینے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے 15 دن بعد بھی حالت سازگار نہیں ہوئے ہیں۔ آج بھی بینکوں اے ٹی ایم اور پوسٹ آفسوں کے سامنے قطاریں کم نہیں ہوئی ہے۔ مارکٹ سے86% بڑی نوٹ بنائی جانے سے عوام پریشان ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ساری ریاست میں مجموعی طور پر 65 ہزار کروڑ روپئے کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے غریب اور متوسط طبقہ کے عوام پریشان ہیں، لیکن سیاسی قائدین اور درمیانی افراد کرنسی بحران کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بڑے بڑے افراد 25 تا 30 فیصد کمیشن پر اپنے کالے دھن کو سفید کررہے ہیں جس میں سیاسی قائدین بھی شامل ہیں بلکہ سچ کہا جائے تو سیاسی قائدین بھی سنڈیکیٹ کا حصہ بن گئے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں کئی بینک مینیجرس کالے دھن کو سفید کرنے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا قوی امکان ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پنجہ گٹہ میں ایک بینک مینیجر کی جوہری سے سودے بازی ہوگئی ہے۔ بینک مینیجر نے جوہری کو ایک کروڑ روپئے کی منسوخی شدہ کرنسی بینک میں جمع کرنے پر اتنی ہی مالیت کی سفید کرنسی پہونچانے کی پیشکش کی ہے جس کے عوض میں 30 لاکھ روپئے کا سونا طلب کیا ہے۔ جیسے ہی یہ بات مقامی قائد کے پاس پہونچی مقامی قائد نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے اپنا حصہ طلب کرلیا۔ مسئلہ تنازعہ کا شکار ہوتے ہی بینک مینیجر نے طویل رخصت حاصل کرلی۔ ایک دوسرا واقعہ جیڈی میٹلہ میں پیش آیا ہے۔ ایک بڑی جماعت کے چھوٹے قائد نے فارماسٹی کمپنی کے مالک سے رجوع ہوکر بتایا کہ بینک مینیجر ، اُن کا قریبی رشتہ دار ہے اور وہ آسانی سے کالا دھن سفید کراسکتا ہے۔ کمپنی کے مالک نے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے 75 لاکھ روپئے تھما دیئے۔ 2 دن بعد قائد نے صرف 20 لاکھ روپئے کی کرنسی فارما کمپنی مالک کے حوالے کی اور ماباقی رقم خود غبن کرلیا۔ ایک عوامی منتخب نمائندے کی اس چھوٹے قائد کو تائید حاصل ہے جس پر کمپنی کا مالک خاموش ہے۔ ایل بی نگر کے علاقہ میں ایک کارپوریٹ بینک کے مینیجر نے رئیل اسٹیٹ کاروبار سے وابستہ ایک تاجر سے سازباز کی ہے۔60 لاکھ روپئے کالادھن کے عوض میں 50 لاکھ روپئے سفید دھن دینے کے ساتھ ایک پلاٹ کی بھی سودے بازی کرلی ہے۔

TOPPOPULARRECENT