Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی بحران سے فائدہ اٹھاتے تجارتی گھر

کرنسی بحران سے فائدہ اٹھاتے تجارتی گھر

4 لاکھ افراد بے روزگار ، اخراجات کم کرنے کی کوشش
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بڑی نوٹوں کے بند ہونے کا اثر ملازمتوں پر دیکھا جارہا ہے ۔ 4 لاکھ ملازمین اور مزدوروں کی ملازمت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اگر حالت سازگار ہونے میں مزید وقت لگتا ہے تو اس کی بھی سزا غریب اور متوسط طبقہ کے افراد کو ہی بھگتنی پڑے گی ۔ ملک میں 500 اور 1000 کی نوٹوں پر امتناع عائد کردینے کے بعد 86 فیصد کرنسی مارکٹ سے ہٹ چکی ہے ۔ صرف ایمرجنسی صورتحال کے لیے منسوخ شدہ نوٹ قبول کی جارہی ہیں ۔ جس سے صنعتی و پیداواری اداروں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ صنعتی اور کرنٹ اکاونٹ رکھنے والے اداروں کو 50 ہزار روپئے بنکوں سے نکالنے کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ جس سے پیداواری سرگرمیاں بند ہوگئی ہیں پہلے عوام کرنسی کے لیے پریشان ہیں ۔ دوسری طرف پیداواری اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوجانے سے ملازمین اور مزدور روزگار سے محروم ہورہے ہیں ۔ ابھی تک دو بڑی کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے کے بہانے ہزاروں ملازمین کو روزگار سے محروم کردیا ہے ۔ اس طرح منظم اور غیر منظم تمام سیکٹرس پر اخراجات کی کمی کا رحجان بڑھ گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے کاموں سے وابستہ 4 لاکھ عوام روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں ۔ مختلف اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے جہاں کئی افراد کو روزگار سے نکالا گیا ہے ۔ وہی چند افراد کو دوسری ملازمتیں تلاش کرلینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ بصورت دیگر ملازمتوں سے علحدہ کردینے کے اشارے بھی دے دئیے گئے ہیں ۔ جس سے جزوقتی اور کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین اپنی ملازمتوں کو لے کر پریشان ہیں ۔ ایک ماہر معاشیات نے نوٹ بندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے فیصلے سے مستقبل میں کیا نتائج برآمد ہوں گے اس کی غریب اور متوسط طبقہ کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ وہ آج کی فکر کررہا ہے ۔ اگر ملازمت سے محروم ہوجاتے ہیں فوری ملازمت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے ۔ تاہم اس پر ارکان خاندان کا جو بوجھ ہے وہ تو کم ہونے والا نہیں ہے ۔ آمدنی ہو یا نہ ہو اخراجات تو برقرار رہیں گے ۔ اس میں کسی حد تک کٹوتی ہوسکتی ہے ۔ غریب عوام ایک لاکھ سے زائد نقد رقم بینک میں جمع کرنے سے بھی کترا رہے ہیں ۔ انہیں خوف ہے کہ سطح غربت کے نیچے زندگی کی فہرست سے باہر نکل جاتے ہیں تو حکومت کی سبسیڈی پر انہیں جو اشیاء ضروریہ و دیگر مراعات حاصل ہورہی ہے ۔ اس سے بھی وہ محروم ہوجائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT