Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / کرنسی بحران ٹرک بحران میں بدل رہا ہے

کرنسی بحران ٹرک بحران میں بدل رہا ہے

دالوں کی حمل و نقل اور مقدار میں آرڈر رُک گئے ، قلت پیدا ہوسکتی ہے
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ٹرانسپورٹ سرگرمیاں مفلوج ہوجانے کا اثر اشیاء پر پڑرہا ہے ۔ مارکٹ میں چند تاجرین دالوں کی عارضی قلت پیدا کرتے ہوئے پیسہ بٹورنے میں مصروف ہیں ۔ نوٹ بندی کا عام زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہوجانے سے اشیاء ضروریہ کی درآمد اور برآمد بڑی حد تک متاثر ہوگئی ہے ۔ دالوں کی ہمیشہ مانگ رہی ہے ۔ مگر مارکٹ میں فی الحال قلت دیکھی جارہی ہے ۔ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہے ۔ ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بند ہونے سے پڑوسی ریاستوں سے دال و دوسری اشیاء ضروریہ تلنگانہ کو پہونچتی تھی وہ رک گئی ہیں کیوں کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن ختم ہوگیا ہے ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مارکٹ میں ذخیرہ کردہ اسٹاک بھی تقریبا ختم ہوگیا ہے ۔ چند ڈیلرس نوٹ بندی اور عوامی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے دالوں کے اسٹاک کو پوشیدہ رکھتے ہوئے عارضی قلت پیدا کررہے ہیں ۔ طلب کے مطابق دالیں بازار میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مستقبل میں دالوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ نوٹ بندی کے بعد چلر کا بہانا کرتے ہوئے کئی تاجر اپنے دکانات بند کرچکے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے تمام ہول سیل کاروبار مسائل سے دوچار ہیں ۔ اہم مارکٹس محبوب آباد ، تانڈور ، سوریہ پیٹ ، ترملگیری ، جنگاؤں ، ورنگل ، جمی کنٹہ ، کریم نگر ، سدی پیٹ ، جڑچرلہ ، نارائن پیٹ ، ظہیر آباد ، عادل آباد کے علاوہ دوسرے مارکٹس میں سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں ۔ نوٹ بندی کے بعد تاجرین نے محبوب آباد کی مارکٹ کو بند کردیا ہے ۔ تانڈور میں بھی تاجرین مارکٹ بند کرنے پر سنجیدگی سے
غور کررہے ہیں ۔ ملک پیٹ میں ایک ہفتہ سے پیاز کی مارکٹ کو بند رکھا گیا ہے ۔ چند تاجرین دالوں کو گوداموں میں محفوظ رکھتے ہوئے عارضی قلت پیدا کررہے ہیں ۔ ریٹل کاروبار سے وابستہ  چند تاجرین دالوں کی قیمتوں میں اضافہ کرچکے ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT