Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی بحران کا آندھرا پردیش پر بھی اثر ‘ فلاحی اسکیمات متاثر

کرنسی بحران کا آندھرا پردیش پر بھی اثر ‘ فلاحی اسکیمات متاثر

سرکاری خزانہ پر ماہانہ 1100 کروڑ کے نقصان کا اندازہ ۔ دوسرے سہ ماہی کے بجٹ کی اجرائی مشکل
حیدرآباد۔/22نومبر،( سیاست نیوز) ملک میں کرنسی بحران نے دیگر ریاستوں کی طرح آندھرا پردیش کے خزانہ پر بھی برے اثرات مرتب کئے ہیں جس کا راست اثر فلاحی اسکیمات پر دیکھا جارہا ہے۔حکومت کرنسی بحران کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ پر ماہانہ 1100 کروڑ روپئے کے نقصان کا اندازہ کررہی ہے جس کے نتیجہ میں جاریہ مالیاتی سال بجٹ کی اجرائی کا موقف خطرہ میں پڑ چکا ہے۔ کرنسی بحران سے قبل ہی تلنگانہ حکومت نے فلاحی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی کا سلسلہ بند کردیا تھا اور اب جبکہ بحران نے بجٹ پر راست حملہ کیا ہے ایسے میں حکومت دوسرے سہ ماہی کا بجٹ بھی جاری کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ ان حالات میں اقلیتی ادارے اپنے ملازمین کی نومبر کی تنخواہ کی ادائیگی کے بارے میں فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر حکومت تنخواہوں کیلئے بجٹ جاری نہیں کرے گی تو اردو اکیڈیمی، وقف بورڈ، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور حج کمیٹی کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور مذکورہ اداروں کے ذمہ دار بجٹ کی عدم اجرائی کے سلسلہ میں کافی اُلجھن کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے سہ ماہی کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا تو وہ تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں نہیں رہیں گے۔ اردو اکیڈیمی، سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز اور اقلیتی فینانس کارپوریشن راست طور پر متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ حج کمیٹی میں  تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے درکار بجٹ موجود ہے جو پہلے سہ ماہی کے بجٹ سے بچا کر رکھا گیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن بجٹ کی عدم اجرائی کی صورت میں اپنے ملازمین کو انٹرسٹ کی رقم سے تنخواہیں جاری کرسکتا ہے۔ اقلیتی عہدیداروں نے بجٹ کی اجرائی کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ملازمین خود بھی اپنی تنخواہوں کے بارے میں کافی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ نومبر کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے حکومت کو اندرون ایک ہفتہ درکار بجٹ جاری کرنا ہوگا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ تلنگانہ حکومت نے جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1200 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا لیکن اجرائی کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ صرف 270  کروڑ روپئے ہی مختلف اسکیمات پر خرچ کئے جاسکے جبکہ 249 کروڑ کی اجرائی صرف کاغذی رہنمائی تک محدود ہے اور ٹریژری نے یہ رقم جاری نہیں کی ہے۔ ان حالات میں جاریہ مالیاتی سال کا اختتام اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے نیک شگون ثابت نہیں ہوگا اور کئی اسکیمات تو آغاز سے قبل ہی ٹھپ ہوچکی ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جاریہ سال کئی اہم اسکیمات کا آغاز تو ہوا لیکن درمیان میں فنڈز روک دیئے جانے کے سبب عمل آوری نہیں کی جاسکی۔ ریاست کی معاشی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت نے ریزروبینک آف انڈیا سے ہر ماہ 1500 کروڑ روپئے کے خرچ کے حصول کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر نے بتایا کہ ریاست کی معاشی پریشانیوں سے نمٹنے کیلئے یہ تجویز زیر غور ہے۔ وزیر فینانس نے اس سلسلہ میں مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کی اور ریاست کی معاشی صورتحال سے واقف کرایا تھا۔ ریاستی حکومت مالیاتی قواعد کے تحت ہر تین ماہ میں بطور اڈوانس 1500 کروڑ روپئے حاصل کرسکتی ہے تاہم تلنگانہ حکومت کا ماننا ہے کہ اسے موجودہ صورتحال سے نمٹنے اور کرنسی بحران کے باعث ماہانہ 1500کروڑ روپئے مختصر مدتی قرض کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت نے کرنسی کی تنسیخ سے ریاست کے خزانہ کو ہونے والے نقصان کی پابجائی کا مرکز سے مطالبہ کیا ہے۔ مرکز سے سنٹرل سیلس ٹیکس کے معاوضہ کے بقایا جات اور مرکزی اسکیمات کے تحت فنڈز کی اجرائی کی درخواست کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT