Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی بحران کا اثر ، تلنگانہ اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس ملتوی

کرنسی بحران کا اثر ، تلنگانہ اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس ملتوی

۔28 نومبر کو منعقد کرنے کا فیصلہ ، کمشنر بلدیہ اور دیگر عہدیداروں کی طلبی
حیدرآباد ۔ 23۔  نومبر  (سیاست نیوز) کرنسی بحران کا اثر جس طرح سماج کے ہر شعبہ پر پڑا ہے، اسی طرح اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کو بھی اپنا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس جمعرات 24 نومبر کو مقرر تھا ، جسے  28 نومبر تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کرنسی بحران کے سبب سرکاری عہدیداروں کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی۔ اسی دوران اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں کمیٹی نے سکریٹری فینانس کو اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری فینانس نے موجودہ معاشی مسائل کے سبب اجلاس میں شرکت سے معذرت کی ہے۔ اس طرح سکریٹری فینانس 28 نومبر کے اجلاس میں شرکت نہیں کریںگے۔ مقننہ کمیٹی نے جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کیلئے مقررہ 1200 کروڑ بجٹ سے صرف 272 کروڑ خرچ کئے جانے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلہ میں سکریٹری سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں سکریٹری فینانس کو اطلاع دی گئی ، تاہم بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں دیگر محکمہ جات کیلئے بھی بجٹ کی اجرائی میں سست روی اور حکومت کی جانب سے ویلفیر بجٹ کی اجرائی روکنے کی ہدایت کے پیش نظر سکریٹری فینانس اجلاس میں شریک نہیں ہوسکیں گے ۔ کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل رکن اسمبلی نے بتایا کہ 28 نومبر کے اجلاس میں کمشنر بلدیہ اور دیگر عہدیداروں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سڑکوں کی توسیع کیلئے حاصل کردہ اوقافی جائیدادوں کے معاوضے کی ادائیگی کے مسئلہ پر بات چیت کی جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مجلس بلدیہ نے جن اوقافی اراضیات کو حاصل کیا ہے ، ان کا معاوضہ تقریباً 361 کروڑ ہے۔ وقف بورڈ نے معاوضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں بلدی عہدیداروں سے بارہا نمائندگی کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ یہ معاملہ جب مقننہ کمیٹی سے رجوع ہوا تو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمشنر بلدیہ کو طلب کرتے ہوئے معاوضہ کی ادائیگی کے بارے میں ہدایات جاری کی جاسکیں۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ بلدیہ اس موقف میں ہے کہ وہ وقف بورڈ کا معاوضہ ادا کرسکتی ہے جس سے بورڈ کی مالی حالت مستحکم ہوگی۔ وقف بورڈ کے عہدیدار معاوضہ کی اس رقم کے ذریعہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات یا پھر اوقافی جائیدادوں کی ترقی پر اس رقم کو خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ عامر شکیل نے بتایا کہ اجلاس میں بلدیہ سے معاوضہ کے علاوہ وقف بورڈ کے دیگر امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں، اس کے علاوہ تقررات کے سلسلہ میں بھی قواعد کی خلاف ورزی کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ مقننہ کمیٹی ان تمام امور کے سلسلہ میں وقف بورڈ عہدیداروں سے جواب طلب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں درگاہ حضرت سعد اللہ حسینیؒ بڑا پہاڑ کی ترقی کیلئے 20 کروڑ روپئے پر مشتمل پراجکٹ تیار کیا جارہا ہے ۔ حکومت سے یہ رقم حاصل کر تے ہوئے جلد از جلد پراجکٹ پر عمل کیا جائے گا جس سے زائرین کو سہولتیں حاصل ہوں گی۔

TOPPOPULARRECENT