Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی بحران کا اقلیتی اداروں پر بھی اثر

کرنسی بحران کا اقلیتی اداروں پر بھی اثر

ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے قاصر ، تلنگانہ میں معاشی بحران
حیدرآباد۔/24نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کرنسی بحران کے سبب پیدا شدہ معاشی مشکلات کی عدم یکسوئی کی صورت میں اقلیتی ادارے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں نہیں رہیں گے۔ اس صورتحال سے اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں نے حکومت کو واقف کرادیا ہے اور اس بات کی درخواست کی گئی ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کا دوسرے سہ ماہی کا بجٹ فوری جاری کیا جائے۔ کرنسی بحران کے بعد سے حکومت نے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور جاریہ مالیاتی سال کے اختتام تک بھی اقلیتی اداروں کو دوسرے سہ ماہی کے بجٹ کی اجرائی کا امکان نظر نہیں آتا۔ حکومت نے اس بحران سے قبل ہی فلاحی اسکیمات کے بجٹ کو ٹریژری نے منجمد کردیا تھا اور محکمہ فینانس کو ہدایت دی گئی کہ وہ چیف منسٹر کی منظوری کے بغیر فلاحی اسکیمات کا بجٹ جاری نہ کرے۔ اب جبکہ کرنسی بحران نے تلنگانہ حکومت کیلئے معاشی مسائل میں زبردست اضافہ کردیا ہے، ایسے میں اقلیتی اداروں کی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اب جبکہ ماہ نومبر کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مرحلہ قریب آرہا ہے بجٹ کی کمی کے باعث نہ صرف عہدیدار بلکہ ملازمین تنخواہوں کے سلسلہ میں فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے خود بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے سلسلہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ این جی اوز کی جانب سے ملازمین کو کم سے کم 50 فیصد تنخواہ نقد ادا کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اقلیتی اداروں میں بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب جو زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ان میں اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، وقف بورڈ اور سی ای ڈی ایم شامل ہیں۔ حج کمیٹی میں حکومت کا جاری کردہ بجٹ کسی قدر محفوظ ہے  جس کے ذریعہ تنخواہوں کی اجرائی ممکن ہے جبکہ اردو اکیڈیمی میں اسکیمات کیلئے ہی بجٹ نہیں تو پھر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی طور پر تعطل کا شکار ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ حکام نے بھی حکومت سے کچھ اسی طرح کی صورتحال کی شکایت کی ہے۔ اندرون ایک ہفتہ اگر تنخواہوں کی اجرائی کے مساوی بجٹ اقلیتی اداروں کو جاری نہیں کیا گیا تو تنخواہوں کا بحران یقینی طور پر پیدا ہوگا۔ اردو اکیڈیمی کے تحت سابق میں چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور حکومت سے بارہا نمائندگی کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ گذشتہ دنوں اقلیتی بہبود کی تقریب میں عوامی نمائندوں نے اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی اور اس وقت تنخواہوں کی اجرائی کا تیقن دیا گیا تھا۔تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب یہ ملازمین معاشی بحران کا شکار ہیں۔ حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو اردو اکیڈیمی سے اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقل کردیا ہے اور اردو اکیڈیمی نے مذکورہ بجٹ بھی کارپوریشن کو منتقل کردیا۔ اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ جلد سے جلد دوسرے سہ ماہی کا بجٹ جاری کیا جائے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال بجٹ میں 1200 کروڑ روپئے اقلیتی بہبود کیلئے مختص کئے گئے تھے لیکن صرف 272 کروڑ روپئے ہی ابھی تک خرچ کئے گئے اور اجرائی کی صورتحال بھی انتہائی مایوس کن ہے۔

TOPPOPULARRECENT