Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کرنسی بندی کے 30 دن میں 100 سے زائد اموات ، حکومت بے حس

کرنسی بندی کے 30 دن میں 100 سے زائد اموات ، حکومت بے حس

پارلیمنٹ کی کارروائی 15 ویں دن بھی مفلوج ، اپوزیشن کا احتجاج اور نعرے بازی
نئی دہلی 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج مسلسل 15 ویں دن بھی کارروائی متاثر رہی جہاں اپوزیشن نے نوٹ بندی پر مباحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی جاری رکھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے کوئی مسئلہ اٹھانا چاہا لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اُنھیں اجازت نہیں دی اور وقفہ سوالات شروع کردیا۔ اِس پر کانگریس، ترنمول کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور 500 اور 1000 روپئے کی نوٹ منسوخ کرنے پر قاعدہ 184 کے تحت مباحث کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جس میں رائے دہی ضروری ہوتی ہے۔ سمترا مہاجن نے یہ مطالبہ قبول کرنے سے انکار کیا جس پر اپوزیشن ارکان نے نعرہ بازی جاری رکھی۔ انگریزی اور ہندی میں عام طور پر نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن اِس بار ارکان نے علاقائی زبانوں جیسے ملیالم و بنگالی میں بھی نعرے بازی کی۔ ایوان کی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے احتجاجی ارکان پارلیمنٹ کو کارروائی متاثر کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ لیکن ارکان پر اِس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سماج وادی پارٹی و این سی پی ارکان بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔ چنانچہ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 20 منٹ تک کے لئے ملتوی کردی۔ اِس سے پہلے صرف پانچ سوالات کے جواب دیئے جاسکے۔ کانگریس اور بائیں بازو ارکان کرنسی بندی کے خلاف بطور احتجاج اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے تھے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی جو ہاسپٹل میں شریک تھیں، آج ایوان پہونچیں۔ اُنھیں اپنے فرزند اور نائب صدر راہول گاندھی کے علاوہ دیگر پارٹی قائدین ملکارجن کھرگے، جیوتر آدتیہ سندھیا اور جیتندر سنگھ ہوڈا کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے دیکھا گیا۔

راجیہ سبھا کی کارروائی بھی آج ایک بار پھر کرنسی بندی پر اپوزیشن کے احتجاج کی نذر ہوگئی۔ دوپہر کے وقفے سے قبل دو مرتبہ کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اِس کے بعد 2 بجے جب دوبارہ ایوان بحال ہوا ، اُس وقت بھی یہی صورتحال تھی اور آج 15 ویں دن بھی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔ آج صبح اجلاس جیسے ہی شروع ہوا، سکھیندو سیکھر رائے (ترنمول کانگریس) نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کے 8 نومبر کو کئے گئے اعلان کے بعد 30 دن میں 115 افراد فوت ہوگئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایوان میں اِن تمام کو خراج پیش کیا جانا چاہئے۔ اِس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کرتے، وزیر اطلاعات وینکیا نائیڈو اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہاکہ یہ سیاست ہے۔ پہلے اِس مسئلہ پر بحث ہونا چاہئے اور 8 نومبر کو جس وقت یہ اعلان کیا گیا وہ ایک تاریخی دن تھا۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے جب کرسیٔ صدارت سے بات کرنے کی اجازت چاہی، وینکیا نائیڈو نے اعتراض کیا اور کہاکہ اپوزیشن صرف ایوان کی کارروائی متاثر کرنے کا حربہ اختیار کررہی ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ 100 سے زائد کسان، خواتین، نوجوان اور معمر افراد گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنی جان گنواچکے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اُنھیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایوان میں اِن تمام کو خراج پیش کیا جانا چاہئے لیکن حکومت نے اِس سے انکار کردیا۔ چنانچہ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کردی۔

TOPPOPULARRECENT