Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / کرنسی بند کرنا، منظم لوٹ اور قانونی غارت گری: منموہن سنگھ

کرنسی بند کرنا، منظم لوٹ اور قانونی غارت گری: منموہن سنگھ

حکومت کا فیصلہ یادگار انتظامی ناکامی، 50 دن کی اذیت رسانی عام آدمی کیلئے تباہ کن۔ راجیہ سبھا میں سابق وزیراعظم کا اظہار خیال

نئی دہلی 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے مسئلہ پر اپوزیشن کی قیادت کرتے ہوئے آج حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ حکومت کا یہ فیصلہ یادگار انتظامی ناکامی ہے اور اس کے نتیجہ میں اندرون ملک جملہ گھریلو پیداوار کی شرح گھٹ کر 2 فیصد تک رہ جائے گی۔ راجیہ سبھا میں نوٹ بندی مسئلہ پر مباحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے منموہن سنگھ 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کو بند کرنے کا جو مقصد وزیراعظم نے بتایا ہے وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں لیکن وہ عام آدمی اور غریبوں کو درپیش مسائل کو اُجاگر کرنا چاہتے ہیں جو حکومت کے فیصلے کی وجہ سے پیش آرہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اس مسئلہ پر ایک فریق کیا کرتا ہے یا دوسرا فریق کیا کرتا ہے

اس میں نقائص تلاش کرنا ان کا ارادہ نہیں ہے لیکن وہ سنجیدگی سے اُمید رکھتے ہیں کہ اتنی تاخیر کے باوجود بھی وزیراعظم اس ملک کے عوام کو درپیش ہورہی پریشانیوں اور مصائب کا قابل عمل حل دریافت کرنے میں مدد کریں گے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کے فیصلے پر جس انداز میں عمل آوری ہورہی ہے اس سے انھیں یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ فیصلہ یادگار انتظامی ناکامی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس فیصلے کے نتیجہ میں جملہ گھریلو پیداوار کی شرح صرف 2 فیصد رہ جائے گی۔ ان کے خیال میں یہ شرح نہ اندازوں سے کم ہے اور نہ زیادہ۔ اس فیصلے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہاکہ یہ دراصل منظم لوٹ اور قانونی غارتگری ہے۔ راجیہ سبھا میں وزیراعظم کی موجودگی کے باعث ان مباحث کا آغاز ہوا تھا۔ وقفہ سوالات کو معطل کرتے ہوئے یہ مباحث شروع کئے گئے تھے اور اپوزیشن و برسر اقتدار جماعت، وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی کے باعث مباحث کا آغاز کرنے تیار تھے۔ وزیراعظم وقفہ سوالات میں شرکت کے لئے ایوان میں آئے تھے کیوں کہ جمعرات کا دن وزیراعظم سے پوچھے جانے والے سوالات کے لئے مختص ہوتا ہے۔

قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے صدرنشین جناب حامد انصاری اور قائد ایوان ارون جیٹلی سے خواہش کی کہ وقفہ سوالات کو معطل کردیا جائے اور کرنسی مسئلہ پر مباحث ہونے چاہئیں۔ حکومت نے اس تجویز کو قبول کرلیا اور ارون جیٹلی نے کہاکہ مباحث کا فوری آغاز ہونا چاہئے اور وزیراعظم یقینی طور پر اس میں حصہ لیں گے۔ آزاد نے اس موقع پر کہاکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس پر اظہار خیال کریں گے۔ منموہن سنگھ نے کہاکہ حکومت کے فیصلے کی وجہ سے عام آدمی اور غریب عوام پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ وزیراعظم عام آدمی کی پریشانیوں اور مسائل کو ختم کرنے کا کوئی قابل قبول حل دریافت کریں گے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نریندر مودی کے اس خیال سے بھی اتفاق نہیں کیاکہ جس میں انھوں نے عوام سے 50 دن صبر کرنے کو کہا تھا۔ منموہن سنگھ نے کہاکہ 50 دن کا وقت مختصر ہوتا ہے لیکن جو سماج کے کمزور اور پسماندہ افراد ہیں انھیں 50 دن کی اذیت رسانی بھی تباہ کن اثرات کا موجب ہوسکتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے 60 تا 65 افراد اپنی زندگیوں کو گنوا بیٹھے ہیں۔ شائد یہ تعداد اس سے زیادہ ہو۔ انھوں نے کہاکہ جو کچھ بھی کیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں کرنسی نظام میں عوام کا اعتماد متزلزل ہوسکتا ہے اور بینکنگ نظام پر بھی اعتماد کم ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس فیصلے سے زراعت، غیر منظم شعبہ اور چھوٹی صنعتیں بُری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ لوگ کرنسی اور بینکنگ نظام میں اعتماد کھوٹے جارہے ہیں۔ کچھ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے قائدین جیسے ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائین اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس مسئلہ پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT