Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تبدیلی سے سیاحتی مقامات ویران

کرنسی تبدیلی سے سیاحتی مقامات ویران

بیرونی سیاحوں کی آمد میں 70 فیصد گراوٹ، تاجرین بھی پریشان حال
حیدرآباد۔27نومبر(سیاست نیوز) موسم سرما کے دوران شہر حیدرآباد میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے اور سرد مقامات کے شہریوں کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات سے ماہ نومبر کے دوران ہر سال حیدرآباد میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔ ملک میں کرنسی کی تنسیخ اور بینکوں کے آگے طویل قطاروں کے اس مہینہ کے دوران شہر حیدرآباد میں سیاحوں کی آمد میں کافی گراوٹ دیکھی گئی بلکہ کہیں کہیں صرف بیرونی سیاح نظر آرہے ہیں جبکہ دیگر ریاستوں سے بغرض سیاحت پہنچنے والوں کی تعداد میں 70فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاحوں کی آمد میں آنے والی اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ملک میں اچانک بڑی کرنسی کی تنسیخ ہے جس کے سبب ہر کوئی اپنی کرنسی تبدیل کروانے اور گھروں میں موجود رقومات کو بینک تک پہنچانے میں مصروف ہے اسی لئے کئی گروپس نے جو سیاحتی مقصد کے تحت اپنے منصوبہ تیار کرلئے تھے انہوں نے اپنے منصوبوں کو لمحہ آخر میں معطل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے سیاحتی مقامات پر جہاں روزانہ سیاحوں کے ہجوم دیکھے جاتے تھے ان علاقوں میں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔لاڑ بازار سے تعلق رکھنے والے تاجر جناب محمد شریف نے بتایا کہ تاریخی چارمینار کا مشاہدہ کرنے کیلئے پہنچنے والے تاجرین کے سبب لاڑ بازار میں کاروبار عروج پر ہوا کرتا تھا لیکن 8نومبر کے فیصلہ کے بعد اندرون دو یوم سیاحوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی چلی گئی جس کے سبب تاریخی چارمینار کے اطراف کے بازاروں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ملک کے کئی علاقوں میں جہاں سے عوام خریداری کیلئے حیدرآباد پہنچا کرتے تھے ان کی تعداد میں بھی کافی گراوٹ آچکی ہے۔سیاحوں کی تعداد میں کمی کے سبب نہ صرف تاجرین کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ اس کے اثرات ریاست کے خزانے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔گنبدان قطب شاہی‘ قلعہ گولکنڈہ‘ چومحلہ پیالس کے علاوہ دیگر تاریخی مقامات کے مشاہدے کیلئے پہنچنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔شہر کے ایک ٹورسٹ گائیڈمسٹر محمد علی نے بتایا کہ سیاحتی مقامات پر ٹورسٹ گروپس کی آمد میں 60تا70فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے جو کہ ہندستانی سیاحوں کی کمی ہے اس کے علاوہ بیرونی سیاحوں کی تعدادمیں کچھ حد تک کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کئی سیاحتی مقامات سنسان نظر آرہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں کرنسی کی تنسیخ کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کا اثر حیدرآباد کی سیاحتی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوا ہے اور سیاحوں کی تعداد میں کمی کے سبب حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔تلنگانہ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اندرون ملک سیاحوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ آئی ہے جبکہ بیرونی سیاحوں کی تعداد میں معمولی فرق دیکھا جا رہا ہے ۔کارپوریشن کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ہندستانی سیاحوں کی تعداد میں تخفیف عارضی ہے جبکہ بیرونی سیاحوں کو شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ کی سمت راغب کروانے میں حکومت بڑی حد تک کامیاب ہوتی جا رہی ہے اور جو کمی بیرونی سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ کی جا رہی ہے وہ بہت جلد دور ہو جائے گی۔سیاحتی مراکز کے قریب چھوٹے کاروبار جیسے پانی وغیرہ کی فروخت کے ذریعہ روزگار حاصل کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک میں اس فیصلہ کے بعد ان کے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ سیاحوں کی آمد میں بھاری کمی کے سبب وہ کچھ کاروبار نہیں کر پا رہے ہیں اسی طرح ٹور آپریٹرس جو سیاحوں کیلئے ٹور پلان کیا کرتے تھے ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ شہر میں سیاحوں کی کم تعداد کے سبب سیاحتی شعبہ متاثر ہوا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT