Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ سے 4.5 لاکھ نوجوان روزگار سے محروم

کرنسی تنسیخ سے 4.5 لاکھ نوجوان روزگار سے محروم

غیر منظم شعبہ جات کی ملازمتیں خطرہ میں، رئیل اسٹیٹ تجارت شدید متاثر، مزدوروں کی نقل مکانی
حیدرآباد۔11ڈسمبر (سیاست نیوز ) کرنسی کی تنسیخ کے سبب پیدا شدہ حالات کا شکار سب سے زیادہ مزدور طبقہ ہونے لگا ہے اور غیر منظم شعبہ کے ملازمین کی ملازمتیں خطرے میں پڑتی جا رہی ہیں۔ ہندستان کے مختلف شہروں میں رئیل اسٹیٹ شعبہ شدید متاثر ہونے کے بعد مزدور طبقہ نقل مکانی شروع کرچکا ہے اور غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تعداد میں بڑے پیمانے پر تخفیف کے متعلق منصوبہ بندی شروع کرچکے ہیں۔ کرنسی کی تنسیخ کے اندرون ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں 4.5لاکھ نوجوانوں کے روزگار چھین لئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ مزید ایک ماہ کے انتظار کے بعد غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی اس تعداد میں 10گنا اضافہ ریکارڈ کئے جانے کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ‘ کنسٹرکشن‘ صرافہ‘ صنعتیں اور کئی ایسے تجارتی شعبہ جو نقصان کا سامنا کر رہے ہیں ان شعبوں میں ملازمین کی تخفیف کا عمل شروع ہو چکا ہے جو ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے ۔صرافہ بازار ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گاہک ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں ملازمین کی بڑی تعداد کو برسرخدمت رکھا جانے کا کوئی جواز نہیں ہے اسی لئے ان کی تنظیم اس سلسلہ میں غورکر رہی ہے کہ فوری طور پر 10تا15فیصد ملازمین کی تخفیف عمل میں لائی جائے تاکہ نقصانات کی پابجائی ممکن ہو سکے۔ اسی طرح کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ شعبہ کی حالت میں بھی ریکارڈ کی جا رہی تیز رفتار گراوٹ نے اس صنعت کے ملازمین کو بھی خوف و ہراس میں مبتلا ء کردیا ہے کیونکہ ان کمپنیو ں کی جانب سے جاری نقصانات سے بچنے کی حکمت عملی کے نام پر ملازمین کی تخفیف کے متعلق حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ مزدور طبقہ جو روز مرہ کی مزدوری کے ذریعہ گذر بسر کیا کرتا تھا اس طبقہ پر تو آفت ٹوٹ پڑی ہے کیونکہ انہیں نہ تو مستقل ملازمت ہے اور نہ ہی وہ مزدوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو پارہے ہیں۔ ملک میںموجود دیگر صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی صنعت کا اگر جائزہ لیا جائے تو آئی ٹی صنعت بھی تیزی سے زوال پذیر ہوتی نظر آرہی ہے جس کے سبب اس شعبہ میں جو دلکشی تھی وہ بتدریج کم ہونے لگی ہے۔ ایک ماہ کے دوران کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ نے جو حالات پیدا کئے ہیں ان کا راست اثر ملک کی معیشت پر ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری حالات کے قابو میں آنے کے بعد تیز تبدیلی نظر آئے گی اور اس تبدیلی کے نمایاں اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔ ملازمتوں میں کی جانے والی تخفیف کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ یہ تخفیف بھی عارضی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ  اور کنسٹرکشن کے ماسواء مابقی تمام شعبوں میں تیزی کے ساتھ اچھا ل آئے گا ۔

TOPPOPULARRECENT