Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ فیصلہ پر آرڈیننس کا سہارا

کرنسی تنسیخ فیصلہ پر آرڈیننس کا سہارا

یکم فروری کو مرکزی حکومت کے بجٹ پیشکشی کا امکان
حیدرآباد۔8۔ڈسمبر(سیاست نیوز)  حکومت کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ پر مہر لگانے کیلئے آرڈیننس کاراستہ اختیار کرے گی۔ذرائع کے بموجب محکمہ فینانس کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ 1000اور 500کے کرنسی کی تنسیخ کے سلسلہ میں جو قانون سازی کی جانی ہے اسے صرف آرڈیننس کے ذریعہ ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے کیونکہ 30ڈسمبر کو جب بینک میں نوٹ جمع کروانے کی مدت ختم ہو جائے گی اس کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس جنوری کے اواخر میں ہونے کا امکان ہے کیونکہ جاریہ سرمائی سیشن کا اختتام 16ڈسمبر کو ہونے جا رہا ہے اور اس کے بعد وسط جنوری سے بجٹ سیشن کے آغاز کا امکان ہے کیونکہ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت ہند یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اس اعتبار سے یکم تا 15جنوری کے درمیان آرڈیننس کے ذریعہ بڑے کرنسی نوٹوں کی مکمل تنسیخ کا اعلان کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے 31مارچ تک ریزرو بینک آف انڈیا میں جمع کروانے کی مہلت کے متعلق وضاحت موجود نہیں ہونے کے سبب یہ کہا جا رہا ہے کہ 30ڈسمبر کے فوری بعد آرڈیننس کی اجرائی کو قطعیت دی جانے لگی ہے۔ حکومت نے سابق میں مجموعیمنسوخ کرنسی کی عدم واپسی کے متعلق جو توقع تھی اس میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے کیونکہ 50فیصد ٹیکس و جرمانہ کے ساتھ ادائیگی کی سہولت کے سبب یہ رقم کی واپسی میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کی جانب سے اب صرف 3تا4لاکھ کروڑ تک کی عدم واپسی کی امید باقی ہے جو ریزرو بینک آف انڈیا یا مرکزی بینکوں تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا مسٹر ڈی سبا راؤ کے بموجب کرنسی کی تنسیخ کیلئے قوانین میں ترمیم ناگزیر ہے کیونکہ جو غیر محسوب منسوخ کرنسی واپس نہیں آئیں گی ان کی مکمل تنسیخ کیلئے قانون سازی ضروری اسی لئے آرڈیننس کی راہ اختیار کرنا ضروری ہے۔محکمہ فینانس کا کہنا ہے کہ تمام قانونی امور کا جائزہ لئے جانے کے بعد ہی اس سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ فی الحال حکومت کے اعلان کے بعد جو صورتحال ہے اس کے مطابق کرنسی کا چلن بند ہے لیکن 30ڈسمبر کے بعد بینک میں جمع کروانے پر پابندی عائد کردیئے جانے کے بعد اس کرنسی کی تنسیخ کے متعلق اعلامیہ کی اجرائی کی جانی چاہئے اور پارلیمنٹ میں جاری موجودہ ہنگامہ آرائی کے دوران قانونی ترمیم کی پارلیمنٹ کے ذریعہ ممکن نہیں ہے اسی لئے آرڈیننس پر غور کیا جانے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT