Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ کے بعد مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے 60 فرمان

کرنسی تنسیخ کے بعد مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے 60 فرمان

حکومت کے ہر دن نئے فیصلوں پر ماہرین معاشیات کی تنقیدیں ، عوام تجسس کا شکار
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : نوٹ بندی کے 44 دن میں مرکزی حکومت اور آر بی آئی نے 60 فرمان جاری کرتے ہوئے پہلے سے پریشان عوام کو ناراض کیا ہے ۔ عوامی برہمی کے بعد کئی فیصلے تبدیل کرتے ہوئے عوام کو تجسس میں رکھا ہے ۔ 8 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 10 نومبر تا 30 دسمبر تک منسوخ شدہ نوٹ کو بینکوں اور پوسٹ آفسوں میں جمع کرنے کا عوام کو مشورہ دیا ہے ۔ اس کے بعد جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ سارے ملک میں مذاق کا موضوع بن چکے ہیں ۔ کئی ماہرین معاشیات نے نوٹ بندی اس کے بعد جاری ہونے والے فرمان اور تبدیل ہونے والے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ نوٹ بندی کے 44 دن میں 60 فیصلے تبدیل ہوئے ہیں ۔ یا فیصلوں میں ترمیم ہوئی ہیں ۔ وزیراعظم کی جانب سے نوٹ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بینکوں اور پوسٹ آفسوس اور اے ٹی ایم کے قریب بھیڑ کو دیکھ کر فیصلے کے چوتھے دن مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے عوام کو مشورہ دیا کہ ابھی ان کے پاس 46 دن ہے ۔ وہ بینکوں اور پوسٹ آفسوں کی قطاروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ اپنے پاس موجود منسوخ شدہ نوٹوں کو آرام سے بینکوں میں ڈپازٹ کریں ۔ منسوخ شدہ نوٹ تبدیل کرانے اور بینکوں کے ڈپازٹ سے نقد رقم نکالنے کی حد 4 ہزار روپئے مقرر کی گئی تھی ۔ تاہم 9 ویں دن ڈپازٹ اور نوٹ تبدیل کرنے کی حد کو 4 ہزار سے گھٹا کر 2 ہزار کردیا گیا ہے ۔ اس کے فوری بعد نوٹ تبدیل کرنے والوں کی انگلی پر ووٹ دیتے لگائے جانے والے نشان کی طرح نشان لگانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے اعتراض پر اس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ بینکوں میں ڈپازٹ ہونے والی رقم کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ منسوخ شدہ نوٹوں کو ایمرجنسی صورتحال ٹرین ، بس ، دودھ ، پٹرول بینکس ، ٹیکس اور بلز کے لیے وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پھر آہستہ آہستہ اس سے دستبرداری اختیار کی گئی ۔ پہلے 1000 روپئے کی نوٹ کے چلن کو بند کرتے ہوئے بینکوں میں ڈپازٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ اس کے بعد 500 روپئے کے چلن کو بھی بند کرتے ہوئے بینکوں میں ڈپازٹ کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ ہفتہ میں بینکوں سے 24 ہزار روپئے نکالنے کی حد مقرر کی گئی ۔ مگر اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ سرکاری ایمپلائز اور ریٹائرڈ ایمپلائز کو 10 ہزار روپئے نقد رقم دینے کا اعلان کیا گیا مگر صرف 4 تا 6 ہزار روپئے دئیے گئے ۔ شادیوں کے لیے ڈھائی لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا گیا مگر صرف گنے چنے افراد کو ڈھائی لاکھ روپئے دیا گیا ۔ کسانوں اور کمپنیوں کو روزانہ 50 ہزار روپئے دینے کا وعدہ کیا گیا مگر اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ حال ہی میں 5 ہزار سے زیادہ منسوخ شدہ نوٹ بینکوں میں ڈپازٹ کرنے پر کئی شرائط کا اعلان کیا گیا ۔ عوامی ناراضگی کے بعد اس سے دستبرداری اختیار کی گئی اس طرح اور بھی کئی فیصلے کرتے ہوئے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT