Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ کے بعد ملک میں 91 لاکھ انکم ٹیکس دہندگان کا اضافہ

کرنسی تنسیخ کے بعد ملک میں 91 لاکھ انکم ٹیکس دہندگان کا اضافہ

گذشتہ 6 ماہ کے دوران 3 لاکھ سے زائد پیان کارڈ جاری ، حکومت کی آمدنی میں زبردست اضافہ
حیدرآباد۔16مئی (سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے اثرات کے متعلق سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلا ت کے مطابق ملک بھر میں مالی سال 2016-17کے دوران 91 لاکھ ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ 6 ماہ کے دوران 3لاکھ سے زائد پیان کا رڈ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جو کہ ملک کے ٹیکس دہندگان میں سالانہ اضافہ کے ریکارڈ میں ایک نئی تاریخ قرار دی جا رہی ہے اور محکمہ انکم ٹیکں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 91لاکھ کا اضافہ راست محصولات کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں ز بردست اضافہ ریکارڈ کیا جا ئے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے ساتھ ہی یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے لیکن سی بی ڈی ٹی کی جانب سے 91لاکھ نئے انفرادی ٹیکس دہندگان کے اضافہ نے حکومت کے حوصلہ کو بڑھایا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت اس اضافہ کو کرنسی تنسیخ کا اثر قرار دیتے ہوئے شہریوں کو ٹیکس کی ادائیگی کیلئے مجبور کرنے کی راہ اختیار کر چکی ہے اور اب ٹیکس چوری کے راستہ بند ہونے لگے ہیں ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد پیان کارڈ کیلئے داخل کی جانے والی درخواستوں میں 5گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پیان کارڈ کی اجرائی میں 3گنا اضافہ ہوا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 8نومبر 2016کو کئے گئے فیصلہ کے بعد جن لوگوں نے ٹیکس کی ادائیگی شروع کی ہے ان کی تعداد 91لاکھ ہوئی ہے اور اس تعداد کو 2016-17مالی سال میں شمار کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس دہندگان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور انفرادی ٹیکس دہندگان کی تعداد میں قابل لحاظ اضافہ کے ساتھ ساتھ جی ایس ٹی کے ذریعہ تجارتی وصولی محصولات میں اضافہ ریکارڈ کئے جانے کی توقع ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ برسو ںمیں ٹیکس اداکرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس چوری کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ تجارتی محصولات جی ایس ٹی کے ذریعہ وصول کئے جائیں گے تو تمام ٹیکس یکجا ہوجائیں گے ایسی صورت میں ٹیکس کی ادائیگی سے فرار اختیار کرنا کسی بھی تاجر کیلئے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اقل ترین ٹیکس کی ادائیگی سب کے لئے لازمی قرار دیئے جانے کے سبب بازار تک پہنچنے والی ہر شئے کا ریکارڈ موجود رہے گا اسی لئے کوئی فروخت کے ریکارڈس کو مخفی نہیں رکھ پائے گا۔

TOPPOPULARRECENT