Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ کے بعد ملک کے چند شہروں میں رئیل اسٹیٹ کی تجارت عارضی

کرنسی تنسیخ کے بعد ملک کے چند شہروں میں رئیل اسٹیٹ کی تجارت عارضی

الیکٹرانک پراپرٹی پاس بک اور بے نامی جائیدادوں کے خلاف مہم پر خدشات
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد رئیل اسٹیٹ تجارت میں گراوٹ کے باوجود ملک کے چند شہروں میں جو رئیل اسٹیٹ کی چمک دمک دیکھی جا رہی ہے وہ عارضی ہے اور اس کی طویل مدت تک برقراری کے کوئی امکان نہیں ہیں بلکہ ممبئی جیسے شہر میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں 40فیصد کی گراوٹ نے ملک بھرکے رئیل اسٹیٹ تاجرین کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ہندستان میں رئیل اسٹیٹ کے معاملہ میں ممبئی اور اس کے اطراف تیزی سے فروغ حاصل کر رہی آبادیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں ہوئے ہراج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ممبئی رئیل اسٹیٹ کی حالت بھی ملک کے دیگر شہروں کی طرح ہو چکی ہے لیکن شہر حیدرآباد اور اطراف کے نواحی علاقو ںمیں رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں دیکھی جانے والی چمک کوئی مستقل نہیں ہے کیونکہ یہ چمک سیلیکان ویلی کی آمدنی کے سبب نظر آرہی ہے لیکن امریکہ میں تیزی سے تبدیل ہو رہے حالات سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ صورتحال بہت جلد تبدیل ہوجائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی سیلیکان ویلی میں خدمات کے سبب دونوں ریاستوں میں کچھ رئیل اسٹیٹ کے حالات بہتر نظر آرہے ہیں لیکن جب انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ان نوجوانوں کا انخلاء شروع کیا جائے گا تو رئیل اسٹیٹ کی حالت مزید ابتر ہوجائے گی بلکہ ممبئی کی طرح 40فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے ملک کے تمام شہروں میں صورتحال کو ابتر کردیا ہے اور ہر شعبہ سست رفتار ی کے ساتھ چل رہا ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود کولکتہ‘ حیدرآباد اور احمدآباد میں جائیدادوں کی فروخت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ان شہرو ںمیں لوگ رہائشی جائیدادیں فروخت کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ رہائشی جائیدادیں کولکتہ میں فروخت کی جا رہی ہیں جو کہ 47فیصد ہیں اسی طرح حیدرآباد میں یہ فیصد 43تک پہنچ چکا ہے جبکہ احمدآباد میں 30فیصد جائیدادیں فروخت کیلئے تیار ہیں۔حیدرآباد‘ بنگلورو اور چینائی میں نظر آنے والی رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں چمک دمک عارضی رہے گی جبکہ ان شہروں میں بھی حالات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ جو بلڈرس اس شعبہ میں تیز رفتار تعمیری کاموں کا ریکارڈ رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجود ہ دور میں رئیل اسٹیٹ تجارت مکمل طور پر غیر مقیم ہندستانی شہریوں پر انحصار کئے ہوئے ہے اور اس مرتبہ توقع کے برخلاف این آر آئیز کی جانب سے بھی جائیدادوں کی خریدی میں دلچسپی نہ دکھائے جانے کے سبب شعبہ کی حالت انتہائی نازک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے ۔مالی سال کے دوران کسی بھی وقت حکومت کی جانب سے الکٹرانک پراپرٹی پاس بک اور بے نامی جائیدادوں کے خلاف مہم کے اعلان کے خدشات نے بھی جائیدادوں کی خرید و فروخت کو موقوف کر رکھا ہے اور جن لوگوں کے پاس اضافی جائیدادیں موجود ہیں وہ ان جائیدادوں کو ایسے کسی بھی حالات سے قبل فروخت کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ادارہ یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں کوئی نمایاں تبدیلی ریکارڈ کی جائے گی بلکہ ہر کوئی خلیج سے تعطیلات میں اپنے ملک و شہر کا رخ کرنے والے غیر مقیم ہندستانیوں کی قوت خرچ پر انحصار کئے ہوئے ہے لیکن انہیں بھی مایوسی کا خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT