Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ کے بعد ڈاک خانوں میں 32 ہزار 631 کروڑ کے ڈپازٹس

کرنسی تنسیخ کے بعد ڈاک خانوں میں 32 ہزار 631 کروڑ کے ڈپازٹس

578 لاکھ نوٹوں کی تبدیلی، سکریٹری محکمہ ڈاک بی وی سدھاکر کا بیان

حیدرآباد۔27نومبر(سیاست نیوز) ملک کے جملہ ایک لاکھ 55ہزار ڈاک خانو ں میں 10تا24نومبر کے دوران 32ہزار 631کروڑ روپئے ڈپازٹ کروائے گئے۔ سیکریٹری محکمہ ڈاک مسٹر بی وی سدھاکر نے بتایا کہ ملک بھر کے ڈاک خانو ںمیں مختصر مدت میں اتنی بھاری رقومات پہلی مرتبہ ڈپازٹ کروائی گئی ہیں۔ انہو ں نے بتایا کہ اس مدت کے دوران محکمہ ڈاک کی جانب سے 578لاکھ منسوخ کرنسی نوٹ کی تبدیلی عمل میں لائی گئی جس کی جملہ مالیت 3ہزار680کروڑ ہے۔ 1000اور 500 کے منسوخ کرنسی نوٹ جو ڈپازٹ کی شکل میں وصول کئے گئے ہیں ان کی تعداد 43کروڑ 48لاکھ ہے جن کی مالیت 32ہزار 631کروڑ ہوتی ہے۔ سیکریٹری محکمہ ڈاک کے بموجب ملک کے دیہی علاقوں میں ایک لاکھ 30ہزار ڈاک گھر ہیں جبکہ مابقی 25ہزار ڈاک گھر ملک کے شہری علاقوں میں موجود ہیں انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں ڈپازٹ کابہتر رجحان دیکھاگیا ہے جہاں لوگ کرنسی تبدیل کروانے کیلئے قطار میں تھے وہیں ڈپازٹ کیلئے بھی کئی مقامات پر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں پوسٹ آفس کے ذریعہ کرنسی کی تبدیلی کی سہولت کا عوام نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور اس مدت کے دوران ڈاک خانوں میں جمع 3583کروڑ روپئے کی رقومات نکالی بھی گئی ہیں جو کہ ڈپازٹ کردہ رقومات کا مجموعی اعتبار سے 10فیصد ہوتا ہے۔ مسٹر بی وی سدھاکر کے بموجب 24نومبر سے سرکاری احکام کے بعد ڈاک خانوں میں بھی کرنسی تبدیلی بند کر دی گئی ہے لیکن ڈپازٹ وصول کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاک خانوں میں صرف سیونگ اکؤنٹ میں ہی پرانے کرنسی نوٹ قبول کئے گئے ہیں اگر دیگر اسکیمات میں بھی منسوخ کرنسی قبول کی جاتی تو محکمہ ڈاک کو مزید رقومات وصول ہوتی۔ ملک کے 88فیصد ڈاک خانہ دیہی علاقوں میں ہیں جہاں عوام کا انحصار ان ڈاک خانوں پر ہی ہے۔ دیہی علاقوں میں موجود ڈاک خانوں میں بھاری رقومات جمع کی گئی ہیںکیونکہ ان علاقوں کے عوام جو جمع بندی کئے تھے وہ اب کھاتے میں پہنچ چکی ہے۔انہوں نے ڈاک خانو ںمیں منسوخ کرنسی کے ذریعہ ڈپازٹ کی مدت کے متعلق کہا کہ صرف سیونگ کھاتوں میں یہ کرنسی قبول کی جا رہی ہے کسی بھی مختصر مدتی ڈپازٹ کیلئے اس کرنسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے جو مدت متعین کی ہے اس کے مطابق شہری 30ڈسمبر تک ڈاک خانوں میں اپنی رقومات جمع کرواسکتے ہیں۔ محکمہ ڈاک کے عہدیداروں کے بموجب حکومت کی جانب سے ڈاک خانو ںکے ذریعہ کرنسی کی تبدیلی اور منسوخ کرنسی وصول کرتے ہوئے جمع کرنے کے فیصلہ سے محکمہ ڈاک کے ملازمین کو شب و روز محنت کرنی پڑی اور ملک بھر میں بالخصوص دیہی علاقوں میں حالات کو قابو میں رکھنے کے علاوہ دیہی عوام کو نئی کرنسی کی فراہمی میں ڈاک خانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT