Sunday , May 28 2017
Home / اداریہ / کرنسی مسئلہ اور اپوزیشن

کرنسی مسئلہ اور اپوزیشن

آئینہ رکھ کے جو بیٹھے ہیں سنورنے کیلئے
خود نہیں جانتے وہ ان کے مقابل کیا ہے
کرنسی مسئلہ اور اپوزیشن
ملک میں کرنسی نوٹوں کے مسئلہ پر جوں جوں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والا تیغ زنی کا مقابلہ بڑھتا جارہا ہے لوگوں کے جنوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے مگر اب تک اپوزیشن کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوسکی۔ اے ٹی ایمس اور بینکوں کے باہر نوٹوں کی تبدیلی کیلئے قطار بھی گھٹ چکی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں ہر روز حکومت کے کرنسی منسوخی فیصلہ پر اپوزیشن کا احتجاج بھی رائیگاں ثابت ہوچکا ہے۔ سیاسی داؤ پیج میں ماہر کانگریس پارٹی کو اگرچیکہ پارلیمنٹ میں نئے ساتھی مل چکے ہیں پھر بھی وہ حکومت کے فیصلہ کو واپس لینے کیلئے مجبور کرنے میں ناکام ہے۔ حکومت بھی اپنے فیصلہ پر قائم رہنے کی قسم کھا چکی ہے۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ہونے والی بحث نے ایک سنگین سوال کھڑا کردیا ہے کہ آیا یہ اپوزیشن پارٹیاں واقعی کرنسی منسوخی مسئلہ پر بحث میں حقیقی دلچسپی رکھتی ہیں یا نہیں؟ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی  اور بائیں بازو نے کانگریس سے مل کر 28 نومبر کو بھارت بند منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس دن کیلئے یوم غضب یا یوم برہمی کا نام دیا گیا ہے۔ اگر بھارت بند کی اپیل کا اثر ہوتا ہے اور عوام اس احتجاج میں حصہ لے کر کرنسی کی منسوخی کے خلاف اپنی برہمی ظاہر کرتے ہیں تو اس سے حکومت کے خلاف ایک مضبوط احتجاج درج کرانے میں مدد ملے گی۔ اس کے برعکس حکومت کا رویہ اور اٹل موقف یہ ظاہر کررہا ہیکہ اس نے تہیہ کرلیا ہیکہ اپنے فیصلہ کے ذریعہ ہونے والی پریشانیوں کو نظرانداز کرتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یہاں اپوزیشن پارٹیوں کی نیک نیتی کا امتحان ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ سے عوام کو ہونے والی تکالیف سے واقعی اپوزیشن کو ہمدردی ہے یا وہ صرف پارلیمنٹ میں خلل پیدا کرکے حکومت کے خلاف اپنے سیاسی انتقام کو ہوا دے رہی ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے خلاف اپوزیشن کے متحد ہونے میں کتنی صداقت ہے یہ بھی چند دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ راہول گاندھی اور ان کے حواریوں نے اپوزیشن کے متحد ہونے کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن پارٹیوں کا رویہ ظاہر کررہا ہیکہ وہ مودی کے خلاف اپنی سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں واقعی عام آدمی کو درپیش مشکلات کو دور کرنے میں چمپیئن ہونے کا دعویٰ رکھتی ہیں تو پارلیمنٹ میں ان کا احتجاج کسی اہم بنیادی وجہ کے بغیر احتجاج کے مترادف دکھائی دے رہا ہے۔ راجیہ سبھا میں اب تک ہوئے احتجاج اور بیانات میں کانگریس رکن اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے احساسات کی زبردست ستائش کی جارہی ہے بلکہ حکومت کے اقدام کے خلاف ان کا بیان صد فیصد درست مانا جارہا ہے۔ خود بی جے پی کے اہم قائدین نے درپردہ طور پر حکومت کی منظم لوٹ کھسوٹ کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔ اب اپوزیشن پارٹیوں کے اہم قائدین میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی مہم نے اصل مسئلہ کو کمزور بنادیا ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر سب سے زیادہ اہم رول ادا کرنے والا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش میں ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر بیان دیتا ہے تو یہ عمل سیاسی مفاد کہلاتا ہے۔ راہول گاندھی سے لیکر ممتابنرجی، یا پھر کجریوال بمقابلہ ممتا یا مایا وتی بمقابلہ راہول گاندھی یا پھر سیتارام یچوری کا مقابلہ ممتابنرجی کی کوششوں سے کیا جائے تو عوام کا اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ اس طرح اپوزیشن کے اتحاد کا حکمراں پارٹی تمسخر اڑاتے ہوئے مزید سخت فیصلے کرنے کی ہمت کرے گی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ متحدہ اپوزیشن اپنا ایک گروپ لیڈر منتخب کرکے عوام سے رجوع ہوکر علاقائی یا اپنی اپنی ریاستوں میں تمام پارٹی کارکنوں کو عوام کے درمیان بھیج کر ان کی پریشانیاں دور کرتے ہوئے ان کے بنیادی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرکے عوام کا بھروسہ اور ہمدردی حاصل کی جاتی۔ حکومت کے خلاف عوامی طاقت کو مجتمع کرنے میں ناکام اپوزیشن ایک مضبوط مورچہ نہیں بنا سکے گی۔ اگر واقعی عوام کا مضبوط مورچہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے تو اس کا ثبوت 28 نومبر کے بھارت بند سے مل جائے گا۔ بھارت بند کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہیکہ اپوزیشن پارٹیاں متضاد بیان بازی سے گریز کریں۔ جنتادل یو لیڈر شردیادو نے حکومت کے خلاف نکالی گئی ریالیوں میں حصہ لیا ہے تو اس پارٹی کے سربراہ اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار کے نوٹوں کی منسوخی کیلئے مودی کے فیصلہ کو جرأتمندانہ قرار دے کر ان کی تائید کی ہے۔ اس طرح کے تضاد والے موقف کو لیکر اپوزیشن کو متحد قرار دینا فاش غلطی ہے۔ عوام بھی ایسی اپوزیشن کا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ نریندر مودی کے خلاف ماہر معاشیات منموہن سنگھ کے احساس کو بھی اپوزیشن نے عوام تک مؤثر طریقہ پیش نہیں کیا جس سے حکومت کی اصل خرابیاں اور سختیاں برقرار رہیں گی۔ کچھ پہلوؤں سے دیکھا جائے تو حکومت کے عمل میں غیرپختگی ہونے کے باعث عوام کو نت نئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کو ہی اپنے شعور اور پختگی کا مظاہرہ کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا۔
ڈالر کے مقابل روپئے کی قدر میں کمی
ڈالر کے مقابل روپئے کی قدر میں مسلسل کمی کے باوجود بعض مالیاتی سروے کنندگان نے ملک کی معیشت کو مستحکم بتایا ہے اور کرنسی منسوخی کے بعد بھی اندرون ملک پیداوار میں کسی تبدیلی یا کمی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ سے مستقبل میں جی ڈی پی پر پڑنے والے اثرات فی الحال واضح نہیں ہیں لیکن ڈالر کے مقابل روپئے کی قدر میں گراوٹ کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو افراط زر اور جی ڈی پی شرح میں فرق ضرور پیدا ہوگا۔ بعض مالیاتی تجزیہ کاروں نے کہا ہیکہ جاریہ مالیاتی سال میں ہندوستان  کیلئے شرح پیداوار 7.4 فیصد ہوگی اور 2018-19ء تک یہ شرح 8 فیصد کے نشانہ کو پہنچ جائے گی۔ اگر ایسی پیش قیاسیاں صرف حکومت کو خوش کرنے یا حکومت کی جانب سے عوام کو خوش فہمی میں مبتلاء کرنے کیلئے ہیں تو پھر اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ حقائق اور خرابیوں کا اندازہ کئے بغیر صرف کرنسی منسوخی کے اپنے فیصلہ کو حق بجانب قرار دینے یا اپنے اقدام کی مدافعت میں غلط اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے برعکس ثابت ہوں گے۔ روپئے کی قدر میں گراوٹ دن بہ دن درج کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود جی ڈی پی کی شرح کو خوش کن بتایا جارہا ہے تو حقائق سے چشم پوشی کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر 68.47 یا اس کے آس پاس پہنچ چکی ہے یہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کیلئے خراب تبدیلی ہے۔ جب بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے سونے کی قدر گھٹ جاتی ہے۔ روپیہ کی قدر گھٹنے کا سب سے زیادہ فائدہ آئی ٹی حصص کیلئے ہوتا ہے۔ اگر مستقبل قریب میں ڈالر کے مقابل روپئے کی قدر 70 تا 72 روپئے ہوجائے تو ایسے میں حکومت کی مالیاتی پالیسیاں اور آر بی آئی کی فارن ایکسچینج پالیسی کیا ہوں گی یہ غور طلب رہیں گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT