Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کرنسی مسئلہ پر ترنمول سے اتحاد کے مسئلہ پر محتاط رویہ

کرنسی مسئلہ پر ترنمول سے اتحاد کے مسئلہ پر محتاط رویہ

پارلیمنٹ میں جماعتوں کا موقف دیکھنا ضروری ۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری
نئی دہلی 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج اپنی کٹر حریف ترنمول کانگریس کے ساتھ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے مسئلہ پر اتحاد کے تعلق سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور کہا کہ پارٹی پارٹی پہلے پارلیمنٹ میں حکومت کے موقف کو جاننا چاہتی ہے اور وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ایوان میں اس مسئلہ پر کون کہاں کھڑا ہوتا ہے ۔ سی پی ایم نے ترنمول کانگریس۔ بی جے پی کے مابین میچ فکسنگ کے اپنے الزامات کا اعادہ کیا اور کہا کہ مغربی بنگال میں شرھا اور نراڈا اسکامس کی تحقیقات میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے جس میں بنگال کی برسر اقتدار جماعت کے کچھ قائدین ملوث ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وہ پہلے کرنسی نوٹوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں ترنمول کانگریس کا موقف دیکھنا چاہتی ہے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کے چلن کو بند کرنے حکومت کے اعلان میں نقائص کا ادعا کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کرپشن کو روکنے کی جو بات کر رہے ہیں وہ اس فیصلے سے ممکن نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ مرکزی حکومت نے اترپردیش میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے یہ فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے اپنی پارٹی کے اس الزام کا اعادہ بھی کیا کہ بی جے پی قائدین کو اس فیصلے کی قبل از وقت اطلاع تھی ۔ انہوں نے مغربی بنگال بی جے پی کی جانب سے مودی کے 8 نومبر کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی کروڑہا روپئے بینک میں جمع کروانے کی مثال پیش کی ۔ انہوں نے مرکزی اور مغربی بنگال کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سی پی ایم زیر قیادت ایل ڈی ایف حکومت کے اس فیصلے کی تقلید کریں کہ عوام کو جنہیں مشکلات پیش آر ہی ہیں پرانے کرنسی نوٹس اہم مقامات پر 31 ڈسمبر تک استعمال کرنے کی اجازت دی جائے جب تک مرکزی حکومت کو ئی متبادل انتظام نہیںکرلیتی ۔ ترنمول سربراہ ممتابنرجی کے فون کال کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ممتا نے انہیں فون کیا ہے اور کہا کہ عوام کو اس فیصلے سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہمیں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ پارلیمنٹ سشن قریب آ رہا ہے ۔ کچھ جماعتوں نے نوٹس دی ہے تاکہ اس پر مباحث ہوسکیں۔ ہمیںیہ دیکھنا چاہئے کہ حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے ۔ اسی کی بنیاد پر ہم کوئی فیصلہ کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT