Thursday , June 29 2017
Home / Top Stories / کرنسی نوٹوں کی تنسیخ 2016ء کا سب سے بڑا اسکام

کرنسی نوٹوں کی تنسیخ 2016ء کا سب سے بڑا اسکام

اثرات جون تک برقرار رہنے کے اندیشے ‘ سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم کا الزام

ممبئی ۔ 12فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا کہ امکان ہے کہ ملک 6 تا 6.5 فیصد کی شرح سے 2016-17ء میں ترقی کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرح ترقی آر بی آئی اور سی ایس او کی پیش قیاسی کی بہ نسبت بہت کم ہے ۔ اس کی وجہ اعلیٰ مالیاتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے اثرات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اعداد و شمار تنظیم ( سی ایس او ) نے پیش قیاسی کی تھی کہ شرح ترقی 2016-17ء مالی سال میں 7.1فیصد ہوگی جب کہ آر بی آئی کا کہنا تھا کہ شرح ترقی 6.9فیصد ہوسکتی ہے ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی چدمبرم نے کہا کہ وہ افسوس کے ساتھ یہ پیش قیاسی کررہے ہیں کہ مالی سال 2016-17ء کا اختتام 6تا 6.5فیصد شرح ترقی کے ساتھ ہوگا ۔ یہ سابق اندازوں کے بہ نسبت ایک فیصد سے زیادہ کم شرح ہے ۔ اس سے جی ڈی پی 1.5 لاکھ کروڑ روپئے ہوگی ۔ جاریہ سال جی ڈی پی 150لاکھ کروڑ روپئے ہے جو 1.5 لاکھ کروڑ روپئے کم ہوجائے گی ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ بعض لوگوں کا نظریہ ان کے دماغ میں بسا ہوا ہے اور وہ ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نوٹوں کی تنسیخ کا اعلان کرتے جارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جی ڈی پی 1.5 لاکھ کروڑ روپئے ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017 – 18ء میں شرح ترقی 6 تا 6.5 فیصد ہوسکتی ہے ۔ چدمبرم نے کہا کہ 2017-18ء میں شرح ترقی 2016-17ء سے زیادہ نہیں ہوسکتی کیونکہ عالمی معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہائٹ ہاؤز میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا ہے جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ شرح ترقی 2018-19ء مالی سال میں بھی یہی برقرار رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار جب نوٹ منسوخ کئے گئے تھے اس وقت کہا جارہا تھا کہ ہم ان کی قدر دوبارہ بحال کریں گے ۔ اس سے بڑا لطیفہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ 15.44لاکھ کروڑ روپئے مالیتی کرنسی راتوں رات منسوخ کردی گئی اور اب حکومت 15.44لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے نوٹ چھاپ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ 2016ء کا سب سے بڑا اسکام ہے جو حکومت تسلیم کرنا نہیں چاہتی ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نوٹ واپس لینا اور نئے نوٹ چھاپنا کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتا اور نہ کالا دھن کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی تنسیخ کے اثرات جون تک جاری رہیں گے ۔ 15.44 لاکھ کروڑ روپئے مالیتی نوٹ حاصل کرنے کے بعد 100روپئے ‘ 50 ‘20اور 10روپئے کے نوٹ چھاپے جارہے ہیں ۔ 500 اور 2000روپئے کے نئے نوٹ چھاپے جاچکے ہیں جن کی مالیت 9.5لاکھ کروڑ روپئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو 150لاکھ کروڑ روپئے پر برقرار رکھنے کیلئے 9.5 لاکھ کروڑ روپئے کافی نہیں ہوں گے ‘مزید رقم کی ضرورت پڑے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT